نئی دہلی : بھارت کی انتہا پسند مودی حکومت کا جنگی جنون ایک بار پھر خطے کے امن اور استحکام کے لیے خطرہ بننے لگا ہے۔ ہندوتوا نظریے پر کاربند بی جے پی سرکار کی جانب سے عسکری صلاحیتوں میں تیز رفتار اضافہ اور نوجوانوں کی عسکری تربیت جیسے اقدامات جنوبی ایشیاء کو ایک نئے کشیدگی کے دور کی طرف دھکیل رہے ہیں۔
بھارتی میڈیا کے مطابق، انڈین آرمی نے حال ہی میں 212 عدد 50 ٹن وزنی ٹینک ٹرانسپورٹر ٹریلرز کی خریداری کیلئے 224 کروڑ بھارتی روپے کے معاہدے کیے ہیں۔ یہ معاہدہ دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنے والی کمپنی اینجسکیڈس ایروسپیس کے ساتھ "آتم نربھر بھارت” مہم کے تحت طے پایا ہے۔
یہ ٹریلرز بھاری ٹینکوں اور دیگر جنگی گاڑیوں کی تیز رفتار منتقلی کے لیے تیار کیے گئے ہیں جن میں جدید ہائیڈرولک اور پنیومیٹک لوڈنگ ریمپس شامل ہیں۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے واضح عسکری اشتعال انگیزی ہے۔
نوجوانوں کی عسکری ذہن سازی: لداخ میں این سی سی کیڈٹس کی فوجی تربیت
بھارتی میڈیا نے انکشاف کیا ہے کہ انڈین آرمی نے حال ہی میں لداخ کے حساس علاقے میں این سی سی کیڈٹس کے لیے فوجی تربیتی کیمپ کا انعقاد کیا، جہاں نوجوانوں کو ہتھیار چلانے، نقشہ خوانی، جسمانی فٹنس اور فیلڈ ایکسرسائزز کی خصوصی تربیت دی گئی۔
تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ مودی حکومت کا یہ قدم نہ صرف نوجوانوں میں عسکری سوچ کو فروغ دینے کی کوشش ہے بلکہ یہ انتہا پسند بی جے پی حکومت کی سیاسی ضرورتوں کی تکمیل کا ایک حصہ بھی ہے۔
بی جے پی سرکار قومی وسائل کو عسکری توسیع میں جھونک کر داخلی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش کر رہی ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق مودی حکومت پاکستان دشمنی اور جنگی مہم جوئی کے ذریعے قوم پرستی کی مصنوعی لہر پیدا کرنا چاہتی ہے۔
پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت کی جانب سے عسکری تیاریوں میں اس شدت کا مظاہرہ خطے کے پرامن مستقبل کے لیے خطرناک ہے۔ پاکستان نہ صرف اس تمام صورتِ حال کا باریک بینی سے جائزہ لے رہا ہے بلکہ ملک کی خودمختاری، سلامتی اور دفاع کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔
ترجمان دفترِ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ پاکستان، بھارت کی کسی بھی قسم کی مہم جوئی کا بھرپور، مؤثر اور منہ توڑ جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔




