اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں قائم چار معروف ہوٹلوں کو مخصوص قواعد کے تحت شراب فروخت کرنے کا سرکاری اجازت نامہ جاری کر دیا گیا ہے۔ وزارت داخلہ نے قومی اسمبلی کو تحریری طور پر آگاہ کیا کہ یہ پرمٹ مکمل قانونی تقاضوں کو مدنظر رکھتے ہوئے دیے گئے ہیں۔
جن ہوٹلوں کو یہ لائسنس فراہم کیے گئے ہیں ان میں ہوٹل میریٹ، سرینا، بیسٹ ویسٹرن اور موو اینڈ پک شامل ہیں۔ حکومتی دستاویزات کے مطابق، اس پرمٹ کے اجرا پر پانچ لاکھ روپے فیس لی گئی ہے جبکہ سالانہ تجدید کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے ادا کرنا ہوں گے۔
قواعد کے مطابق، ان اداروں کو ہدایت کی گئی ہے کہ الکحل کو دیگر اشیاء سے علیحدہ رکھا جائے، نئی کھیپ آنے کی صورت میں سات روز کے اندر اطلاع دینا لازم ہوگا، اور ہر بوتل کھولنے سے کم از کم 48 گھنٹے پہلے ایکسائز آفس کو مطلع کیا جائے۔
مزید برآں، ایکسائز افسر کو مکمل اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی وقت، بغیر وجہ بتائے، جاری کردہ لائسنس منسوخ کر سکتا ہے۔
اگرچہ یہ فیصلہ کچھ کاروباری حلقوں کی نظر میں مثبت قدم تصور کیا جا رہا ہے، مگر مذہبی و سماجی حلقوں میں اس پر تحفظات بھی موجود ہیں، کیونکہ ملکی قوانین کے مطابق مسلمانوں کے لیے شراب کا استعمال ممنوع ہے۔
وزارت داخلہ کا کہنا ہے کہ اس پورے عمل کو سخت نگرانی اور قانونی دائرہ کار میں رکھا گیا ہے، اور کسی بھی خلاف ورزی کی صورت میں اجازت منسوخ کی جا سکتی ہے۔




