راولپنڈی/اسلام آباد : پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے زیرِ انتظام جاری ‘آپریشن غضب للحق’ نے ملک دشمن عناصر کے عزائم خاک میں ملا دیے ہیں۔ تازہ ترین تحقیقی اعداد و شمار کے مطابق، فورسز کی جارحانہ کارروائیوں کے نتیجے میں صرف ایک ماہ کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں 59 فیصد کی نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے، جو قیامِ امن کی جانب ایک بڑی پیش رفت ہے۔
تحقیقی ادارے CRSS کی رپورٹ اور سکیورٹی ذرائع کے مطابق فروری کے مقابلے میں مارچ کا مہینہ امن کے حوالے سے انتہائی مثبت رہا، جہاں دہشت گردی کی لہر میں نصف سے زائد کمی دیکھی گئی۔ ٹارگٹڈ آپریشنز کے ذریعے دہشت گردوں کے مواصلاتی رابطوں کو کاٹ دیا گیا ہے اور ان کے مقامی سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا گیا ہے۔
پاک ،افغان سرحد پر دراندازی کے خلاف سخت ترین اقدامات نے دہشت گردوں کی افرادی قوت اور اسلحے کی سپلائی لائن کو مکمل طور پر مفلوج کر دیا ہے۔
سکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ آپریشن کسی مخصوص علاقے تک محدود نہیں بلکہ ایک جامع قومی مہم ہے جس کا مقصد ملک کے ہر کونے سے دہشت گردی کے سائے ختم کرنا ہے۔ دفاعی ماہرین پرامید ہیں کہ اس بڑی کامیابی کے بعد ملک میں معاشی سرمایہ کاری اور سماجی رونقیں دوبارہ بحال ہوں گی، کیونکہ ریاست اب مکمل طور پر حملہ آور موڈ میں ہے اور دہشت گرد دفاعی پوزیشن پر جا چکے ہیں۔




