کراچی/واشنگٹن: مشرقِ وسطیٰ میں "آپریشن ایپک فیوری” کی شدت اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایران کے خلاف تازہ ترین جارحانہ خطاب نے پاکستان کی معیشت پر منفی اثرات مرتب کرنا شروع کر دیے ہیں۔ آج ٹریڈنگ کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) میں شدید مندی کا زلزلہ دیکھا گیا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای 100 انڈیکس میں 3 ہزار 763 پوائنٹس کا بڑا صفایا ہو گیا ہے۔
آج بازارِ حصص میں "پینک سیلنگ” (خوف کے عالم میں شیئرز کی فروخت) کا رجحان غالب رہا۔ کے ایس ای 100 انڈیکس گر کر 1 لاکھ 51 ہزار 748 پوائنٹس پر آگیا ہے۔گزشتہ روز انڈیکس 1 لاکھ 55 ہزار 511 پوائنٹس کی ریکارڈ سطح پر بند ہوا تھا۔ایک ہی دن میں انڈیکس میں تقریباً 2.4 فیصد کی بڑی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اس کریش کی بنیادی وجہ عالمی سیاسی عدم استحکام ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے ایرانی تیل کی تنصیبات کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے بعد برینٹ کروڈ 105 ڈالر تک جا پہنچا ہے، جس سے پاکستان کے درآمدی بل میں اضافے کا خوف پیدا ہو گیا ہے۔ امریکی صدر کا یہ بیان کہ "ایران کو پتھر کے زمانے میں بھیج دیں گے” اور آبنائے ہرمز کی حفاظت سے دستبرداری نے عالمی سپلائی چین کے لیے خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ جنگ کے بادل گہرے ہونے سے سرمایہ کاروں نے اپنا سرمایہ اسٹاک مارکیٹ سے نکال کر سونے اور ڈالرز جیسے محفوظ اثاثوں میں منتقل کرنا شروع کر دیا ہے۔




