کراچی : امریکہ اور ایران کے درمیان آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی اور معاشی جنگ کے اعلانات نے پاکستان اسٹاک ایکسچینج (PSX) کے اعصاب توڑ دیے۔ کاروباری ہفتے کے آغاز پر ہی سرمایہ کاروں میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا، جس کے نتیجے میں کے ایس ای (KSE) 100 انڈیکس 5 ہزار 353 پوائنٹس کی ریکارڈ کمی کے ساتھ کریش کر گیا۔
ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتے ہوئے تزویراتی تناؤ نے مقامی مارکیٹ کو لرزا کر رکھ دیا ہے۔ کاروباری دن کے دوران صورتحال کچھ یوں رہی۔ شدید گراوٹ کے بعد ہنڈرڈ انڈیکس 1 لاکھ 61 ہزار 837 پوائنٹس کی سطح پر بند ہوا۔
سرمایہ کاروں نے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں ممکنہ اضافے کے ڈر سے شیئرز کی بڑے پیمانے پر فروخت (Panic Selling) شروع کر دی جس سے مارکیٹ کیپٹلائزیشن کو اربوں روپے کا نقصان پہنچا۔
مندی کی یہ لہر صرف پاکستان تک محدود نہیں رہی بلکہ خلیج فارس میں جنگ کے بادلوں نے پوری ایشیائی مارکیٹ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ جاپان، ہانگ کانگ اور سنگاپور کی بڑی اسٹاک مارکیٹوں میں بھی مندی کا رجحان غالب رہا۔ عالمی سرمایہ کار توانائی کے بحران اور سپلائی چین میں رکاوٹ کے خدشے سے خوفزدہ ہیں۔
سٹاک مارکیٹ کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک صورتحال میں بہتری کے آثار نظر نہیں آتے، مارکیٹ پر دباؤ برقرار رہے گا اور سرمایہ کار "انتظار کرو اور دیکھو” کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔




