اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کی خصوصی دعوت پر رواں ہفتے سعودی عرب کا ایک انتہائی اہم تزویراتی دورہ کریں گے۔ یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ لفظی جنگ اور آبنائے ہرمز کی صورتحال نے خطے میں شدید بے یقینی پیدا کر رکھی ہے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق، وزیراعظم بدھ کے روز دو روزہ دورے پر ریاض روانہ ہوں گے۔ دورے کا سب سے اہم مرحلہ سعودی ولی عہد کے ساتھ ہونے والی ون آن ون ملاقات ہے، جس میں درج ذیل نکات پر مشاورت کی جائے گی۔ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری حالیہ کشیدگی کو کم کرنے کے لیے ممکنہ سفارتی کوششوں پر بات چیت۔لبنان میں جاری جنگ بندی اور اس میں ممکنہ توسیع کے حوالے سے مشترکہ حکمت عملی۔پاکستان میں سعودی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر پیش رفت اور دفاعی تعلقات کی مزید مضبوطی۔
سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ اسلام آباد میں ہونے والے حالیہ امن مذاکرات کے تناظر میں یہ دورہ کلیدی اہمیت کا حامل ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف سعودی قیادت کو ان مذاکرات کی تفصیلات سے آگاہ کریں گے اور مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کے ‘تعمیری کردار’ پر اعتماد میں لیں گے۔
سیاسی تجزیہ کار اس دورے کو غیر معمولی قرار دے رہے ہیں، کیونکہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وزیراعظم کا یہ دوسرا دورہ سعودی عرب ہے۔
ماہرین کا ماننا ہے کہ اس دورے سے نہ صرف پاکستان کے سفارتی قد کاٹھ میں اضافہ ہوگا بلکہ خلیج فارس میں جاری تنازعات کو ٹھنڈا کرنے کے لیے ریاض اور اسلام آباد کا مشترکہ موقف عالمی سطح پر ایک بڑی تبدیلی کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتا ہے۔




