اسلام آباد: عالمی سفارت کاری کے افق پر پاکستان کا ستارہ چمکنے لگا ہے۔ فیلڈ مارشل کی زیرِ قیادت پاکستان نے مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور عالمی استحکام کے لیے وہ سنگ میل عبور کر لیا ہے جو برسوں سے ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے اسلام آباد میں فیلڈ مارشل سے 24 گھنٹوں کے دوران دو طویل ملاقاتیں کیں۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان ملاقاتوں میں فیلڈ مارشل نے ایک ایسی تزویراتی (Strategic) بساط بچھائی جس نے ایران اور امریکہ کو مذاکرات کی میز پر آنے پر مجبور کر دیا۔ ان ملاقاتوں کے بعد ایرانی وزیر خارجہ اہم ترین امن تجاویز لے کر صدر پیوٹن سے ملنے ماسکو روانہ ہو گئے ہیں۔
امریکی صدر نے ان کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کی عسکری و سیاسی قیادت کی بصیرت نے خطے کو بڑی تباہی سے بچا لیا ہے۔
سفارتی کامیابیوں کے ساتھ ساتھ عسکری میدان میں بھی فیلڈ مارشل کا لوہا تسلیم کر لیا گیا ہے۔ امریکی صدر نے اپنے حالیہ بیان میں فیلڈ مارشل کی دفاعی حکمت عملی کی تعریف کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پاکستانی فضائیہ نے حالیہ جھڑپ میں بھارت کے 11 جنگی طیارے مار گرائے، جو فیلڈ مارشل کی زیرِ نگرانی پاکستانی دفاع کی ناقابلِ تسخیر ہونے کا ثبوت ہے۔”




