نیویارک/لندن: عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں اچانک بڑا دھماکہ ہوا ہے، جہاں برطانوی خام تیل (Brent) کی قیمت میں 8 فیصد کا یکمشت اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔عالمی معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں اس تلاطم کی سب سے بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا حالیہ بیان ہے جس میں انہوں نے ایران کی نئی تجاویز کو مسترد کرتے ہوئے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کو نئے جوہری معاہدے تک برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
برطانوی خام تیل کی قیمت 121 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی ہے۔ یہ قیمت گزشتہ 4 برسوں کی بلند ترین سطح ہے۔ صرف ایک کاروباری سیشن میں قیمتوں میں 8 فیصد کا غیر معمولی اضافہ ہوا۔
آبنائے ہرمز سے تیل کی ترسیل میں ممکنہ تعطل کے خدشے نے عالمی اسٹاک مارکیٹوں کو بھی متاثر کیا ہے۔ ٹریڈرز کا ماننا ہے کہ جب تک واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری یہ تنازع حل نہیں ہوتا، تیل کی قیمتوں میں استحکام آنا مشکل ہے۔




