لاہور:پنجاب کی وزیر اطلاعات عظمیٰ بخاری نے پریس کانفرنس میں پی ٹی آئی اور اس کے قائد کے حوالے سے سخت موقف اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ اگر پی ٹی آئی اپنی غیر ذمہ دارانہ حرکتوں سے باز نہ آئی تو پارٹی پر پابندی لگانے کے اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور ضرورت پڑنے پر گورنر راج بھی نافذ کیا جا سکتا ہے۔
وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ پاکستان کی سلامتی کی سرخ لکیر پر کسی بھی قسم کی آنچ برداشت نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ کل کے مخالف عناصر آج بھی ملک کے مفاد کے خلاف سرگرم ہیں، اور ایک ادارے کے سربراہ کے خلاف پراپیگنڈہ کرنے والے عناصر کے خلاف سخت ردعمل لازم ہے۔
عظمیٰ بخاری نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے عوام نے ہری پور میں مقبول لیڈر کو مسترد کر کے اپنا موقف واضح کر دیا ہے۔ انہوں نے پی ٹی آئی کے قائد کے رویے پر بھی تنقید کی اور کہا کہ ضرورت پڑنے پر ان کا طبی معائنہ ضروری ہے تاکہ ان کی صحت اور رویے کا جائزہ لیا جا سکے۔
وزیر اطلاعات نے زور دیا کہ پاکستان کے مفاد کے خلاف کسی بھی سرگرمی کی اجازت نہیں دی جائے گی اور قومی سلامتی ہر حالت میں مقدم رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے دشمن عناصر کسی بھی صورت پاکستان کے مفاد کو نقصان نہیں پہنچا سکتے۔




