کراچی : آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے سنسنی خیز پریس کانفرنس کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ آن لائن منشیات فروشی کی دنیا کا بڑا نام ‘انمول عرف پنکی’ قانون کے شکنجے میں آ چکا ہے اور اس کے نیٹ ورک میں شامل معاشرے کے کئی نام نہاد معتبر اور بااثر چہروں کے بے نقاب ہونے کا سلسلہ شروع ہو گیا ہے۔ آئی جی سندھ نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ نوجوان نسل کو تباہ کرنے والے اس گھناؤنے کاروبار میں ملوث کسی بھی شخص کو رعایت نہیں ملے گی، جبکہ ملزمہ کے متعدد خفیہ اکاؤنٹس کی تحقیقات کے لیے خصوصی ٹیمیں متحرک کر دی گئی ہیں۔
میڈیا کو کیس کی حساسیت اور تفتیشی پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے آئی جی سندھ نے نیٹ ورک کی جڑوں پر روشنی ڈالی۔پریس کانفرنس کے دوران آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو کا کہنا تھا "ملزمہ کا بنیادی نیٹ ورک لاہور میں تھا اور وہ زیادہ تر وہیں متحرک رہتی تھی، کراچی آتے ہی اسے دھرنا ہماری فورس کی ایک بڑی کامیابی ہے جو انتہائی مشکل سے ممکن ہوا۔ چونکہ اس کیس میں بڑے نام سامنے آ رہے ہیں، اس لیے ملزمہ کی جان کو شدید خطرہ ہو سکتا ہے۔ میڈیا سے گزارش ہے کہ جرائم پیشہ عناصر کو گلیمرائز کر کے ان پر فلمیں بنانے کا ماحول پیدا نہ کریں۔
آئی جی سندھ نے بتایا کہ جس نوعیت کے مقدمات اب تک قائم کیے جا چکے ہیں، ان کے بعد ملزمہ کی جانب سے مزید سنسنی خیز انکشافات متوقع ہیں۔ پولیس کے اعلیٰ حکام کے مطابق، اس بین الصوبائی نیٹ ورک کے مالیاتی تانے بانے اور معتبر مہروں کو قانون کے کٹہرے میں لانے کے لیے وفاقی اداروں سے بھی رابطہ کیا جا رہا ہے تاکہ اس مافیا کا جڑ سے خاتمہ کیا جا سکے۔
0 12 1 minute read




