اسلام آباد: مالی سال 2027 کے وفاقی بجٹ کے حوالے سے پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور اور مشن کا دورہ مکمل ہو گیا ہے، جس میں عالمی ادارے نے معاشی ریلیف کے بجائے سخت شرائط سامنے رکھی ہیں۔ مشن نے ملکی معاشی صورتحال کا جائزہ لینے کے بعد پٹرولیم لیوی کے ہدف میں 18 فیصد اضافے کی اہم سفارش کی ہے، جبکہ بجلی اور گیس کی قیمتوں میں سال میں دو مرتبہ اضافے کی کڑی شرط کو بھی برقرار رکھا ہے۔
جاری کردہ اعلامیے کے مطابق، نئے مالی سال کے بجٹ کی حتمی تیاری کے لیے دونوں فریقین کے مابین بات چیت کا یہ سلسلہ آنے والے دنوں میں بھی جاری رہے گا۔ مذاکرات کے دوران اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے آئی ایم ایف وفد کو یقین دہانی کرائی ہے کہ ملک میں مہنگائی کی شرح کو قابو میں رکھنے کے لیے تمام ممکنہ اقدامات کیے جائیں گے۔ دوسری جانب، پاکستانی حکام نے مالی سال 2027 کے دوران جی ڈی پی کے 2 فیصد کے برابر بنیادی اضافی (Primary Surplus) کا ہدف ہر صورت حاصل کرنے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔




