لاہور :فیڈریشن آف پاکستان چیمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری نے ملک کو معاشی چیلنجز سے نکالنے کے لیے ایک مقتدر اور انقلابی قدم اٹھاتے ہوئے حکومت کے سامنے اپنا متبادل معاشی پلان رکھ دیا ہے۔ لاہور میں تاجر برادری کے اعلیٰ عہدیداروں نے ایک اہم پریس کانفرنس کے دوران واضح کیا کہ بجٹ سے دو ماہ پہلے پارلیمنٹ میں شروع ہونے والی روایتی بحث کے بجائے اب ملک کو گہری ریسرچ پر مبنی ایک جامع معاشی فریم ورک کی ضرورت ہے۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایف پی سی سی آئی عاطف اکرام شیخ نے کہا کہ مضبوط معیشت سرکاری دفاتر کی چار دیواری میں بیٹھ کر نہیں بنتی بلکہ اس کے لیے برآمدات میں اضافہ اور ٹھوس ریسرچ ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم بجٹ اور پالیسی سازی میں حکومتی کردار کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں، لیکن ہماری پیش کردہ شیڈو پالیسی محض ایک مروجہ دستاویز نہیں بلکہ ملکی معیشت کے لیے ایک حقیقی گائیڈ لائن ہے۔ عاطف اکرام شیخ نے زور دیا کہ ایف پی سی سی آئی محض کتابیں چھاپنے کے بجائے معاشی مسائل کا عملی حل فراہم کر رہا ہے، اور اب پالیسی میکرز کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان سفارشات کو فوری طور پر نافذ کریں۔
اس موقع پر یونائیٹڈ بزنس گروپ (UBG) کے پیٹرن انچیف ایس ایم تنویر نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملکی تاریخ میں پہلی بار تاجر برادری کی جانب سے ایک مکمل معاشی پلان سامنے لایا گیا ہے۔ اس تزویراتی پلان میں حکومت کو ایک مربوط ٹیکس پالیسی، متبادل معاشی سروے اور ۵ سالہ طویل مدتی ترقیاتی پروگرام دیا گیا ہے، جو ملک میں پائیدار معاشی استحکام کا ضامن ثابت ہو گا۔




