کراچی: وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سندھ اسمبلی میں بجٹ خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ صوبے کی ترقی کے لیے حکومت، اپوزیشن اور تمام اسٹیک ہولڈرز کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ عوامی مفاد کے منصوبوں پر سیاست کے بجائے تعاون کی ضرورت ہے۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ میں عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں اور ترقیاتی منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اچھے کاموں کی حوصلہ افزائی ہونی چاہیے اور اپوزیشن کو بھی مثبت اقدامات کو سراہنا چاہیے۔
مراد علی شاہ نے اپوزیشن کے اعتراضات کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سندھ اسمبلی میں اپوزیشن کو بھرپور مواقع دیے جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ ہمیشہ سے محبت، رواداری اور قبولیت کی علامت رہی ہے اور یہاں آنے والوں کو عزت دی گئی۔
وفاق سے ملنے والے مالی وسائل کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ وفاق نے گزشتہ سال 2095 ارب روپے دینے کا وعدہ کیا تھا، جبکہ ایف بی آر کی جانب سے 1926 ارب روپے کا تخمینہ دیا گیا، تاہم سندھ کو 1750 ارب روپے مل سکے۔ انہوں نے کہا کہ باقی رقم کے بارے میں 30 جون تک صورتحال واضح ہو جائے گی۔
انہوں نے حیدرآباد، سکھر موٹروے منصوبے کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صوبائی حکومت نے فنڈز مختص کیے ہیں تاکہ منصوبہ جلد مکمل ہو سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ وفاقی حکومت کو منصوبے میں تاخیر کا کوئی بہانہ نہیں ملنا چاہیے۔
سیلاب متاثرین کی بحالی کے حوالے سے وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ متاثرہ خاندانوں کے لیے گھر تعمیر کرنا ضروری تھا، کیونکہ بحالی صرف حفاظتی بند بنانے تک محدود نہیں۔ انہوں نے کہا کہ سندھ میں حفاظتی بندوں اور دریا کے نظام کو پہلے سے بہتر بنایا گیا ہے۔
مراد علی شاہ نے دعویٰ کیا کہ سندھ پہلی بار گندم کی پیداوار میں خودکفیل ہونے جا رہا ہے اور آئندہ گندم کی ضرورت اندرونِ صوبہ پوری کی جا سکے گی۔ انہوں نے موٹر سائیکل سبسڈی، سانحہ گل پلازہ کے متاثرین کے لیے اضافی امداد اور دیگر اقدامات کا بھی ذکر کیا۔
وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ بجٹ اجلاس کے دوران 143 ارکان اسمبلی نے اظہار خیال کیا اور حکومت نے تمام تجاویز اور اعتراضات کو سنا۔ انہوں نے کہا کہ سندھ کی ترقی کے لیے اجتماعی کوششیں ہی کامیابی کا راستہ ہیں۔




