بین الاقوامی

اسلام قبول کرنے والا یورپی ‘جاسوس’ جو مکہ پہنچا، کعبہ کی اولین تصاویر اور تلاوت ریکارڈ کی

28 اگست 1884 کو جدہ کے ساحل پر اُترنے والے نیدر لینڈز کے اِس 27 سالہ نوجوان کا محض ایک مشن تھا یعنی مکہ میں داخل ہو کر اپنی حکومت کے لیے معلومات اکٹھی کرنا، بالخصوص موجودہ انڈونیشیا کے علاقے ’آچے‘ کے حجاج کے بارے میں۔

17ویں سے 20ویں صدی کے دوران ڈچ (نیدر لینڈز) نوآبادیات دنیا کے مختلف حصوں میں تھیں اور اُن کا مقصد تجارت اور سمندری راستوں پر قبضہ کرنا تھا۔ انڈونیشیا اُن کی سب سے بڑی نوآبادی تھی۔

مصنف قیس بجعیفِرنے ’سعودی گزٹ‘ میں شائع ہونے والے ایک مضمون میں لکھا ہے کہ ڈچ حکومت کو اندیشہ تھا کہ انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والے حجاج مکہ میں ایسے علما سے رابطہ کر سکتے ہیں جو انھیں نوآبادیاتی تسلط کے خلاف مزاحمت کی ترغیب دے سکتے ہیں۔

27 سالہ ڈچ نوجوان کرسچیان سنوک ہرخرونئے کا مشن اِن حجاج اور علما پر گہری نظر رکھنا تھا اور ایسی کسی بھی سرگرمی کی اطلاع اپنی حکومت کو دینا تھا جو ڈچ اقتدار کو خطرے میں ڈال سکتی ہو۔

کرسچیان سنوک ہرخرونئے کوئی عام نوجوان نہیں تھے۔ سنہ 1857 میں نیدرلینڈز میں پیدا ہونے والے ہرخرونئے نے لیڈن یونیورسٹی سے الٰہیات کی ڈگری حاصل کی۔ سنہ 1880 میں انھوں نے ’مکہ کا جشن‘ پر مقالہ لکھ کر ڈاکٹریٹ کی ڈگری حاصل کی اور اگلے ہی برس وہ نوآبادیاتی سول سروس کے تربیتی ادارے میں پڑھانے لگے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button