اسلام آباد:حکومت اور جماعت اسلامی کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور خوشگوار ماحول میں مکمل ہوگیا۔ جماعت اسلامی نے عوام کو ریلیف دینے کے لیے حکومت کے سامنے چھ تجاویز پیش کردیں، جبکہ مذاکرات کا اگلا دور جمعرات کو ہوگا۔
مذاکرات کے بعد وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ حکومت نے جماعت اسلامی کو مذاکرات کی دعوت دی تھی اور تجاویز طلب کی تھیں۔ حکومت کی کوشش ہے کہ عوام پر اضافی بوجھ نہ پڑے، تاہم بعض معاملات میں حکومت کو مجبوری کا سامنا ہوتا ہے۔
احسن اقبال نے کہا کہ ایران اور امریکا کے درمیان جنگ کے باعث دنیا بھر کی معیشتیں متاثر ہوئی ہیں۔ حکومت جماعت اسلامی کی پیش کردہ تجاویز کا متعلقہ اداروں کی رائے کی روشنی میں جائزہ لے گی۔
انہوں نے کہا کہ اگر کوئی تجویز ناقابلِ عمل ہوئی تو اس حوالے سے جماعت اسلامی کو بھی آگاہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کا دوبارہ دور جمعرات کو ہوگا۔
دوسری جانب نائب امیر جماعت اسلامی لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی نے اپنی چھ تجاویز حکومتی ٹیم کے حوالے کردی ہیں اور حکومت کے سامنے تمام معاملات واضح طور پر رکھ دیے گئے ہیں۔
لیاقت بلوچ نے کہا کہ جماعت اسلامی کا دھرنا اور احتجاج جاری رہے گا۔ حکومت کو بتایا گیا ہے کہ پٹرولیم لیوی کے باعث معیشت متاثر ہورہی ہے، جبکہ پٹرول اور ڈیزل پر 80 روپے براہِ راست پٹرولیم لیوی عائد ہے۔
انہوں نے کہا کہ عوام کو ریلیف ملنا بنیادی مسئلہ ہے، اس کے لیے حکمرانوں کو اپنے اخراجات میں کمی کرنا ہوگی۔ حکومت کے پاس عوام کو ریلیف دینے کی گنجائش موجود ہے۔
نائب امیر جماعت اسلامی نے توقع ظاہر کی کہ حکومت تین روز کے اندر جماعت اسلامی کی تجاویز کا جائزہ لے گی اور عوام کو ریلیف دینے کے لیے اقدامات کرے گی۔




