اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیرصدارت ٹریڈ فیسیلیٹیشن بورڈ کے پہلے اجلاس میں تجارت کے فروغ اور کاروباری سرگرمیوں میں آسانی کے لیے اہم اقدامات کی منظوری دے دی گئی۔
وزیراعظم نے تجارتی عمل میں غیر ضروری تاخیر ختم کرنے، کاروباری لاگت کم کرنے اور برآمدات بڑھانے کے لیے مؤثر اقدامات کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کاروباری برادری کو ہر ممکن سہولت فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
شہباز شریف نے بڑی بندرگاہوں پر تمام متعلقہ اداروں کی سہولیات ایک ہی مقام پر فراہم کرنے اور مشترکہ انسپیکشن و پروفائلنگ کا نظام اپنانے کی ہدایت کی۔ انہوں نے نان ٹیرف اقدامات کا جامع آڈٹ کرکے غیر ضروری تجارتی رکاوٹیں ختم کرنے پر بھی زور دیا۔
وزیراعظم نے پاکستانی بندرگاہوں تک براہِ راست شپنگ لائنز لانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ اس سے پاکستانی مصنوعات کی عالمی خریداروں تک ترسیل مزید آسان اور تیز ہوگی۔
اجلاس میں قومی تجارتی کارکردگی انڈیکس تیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا، جس میں کارگو ڈویل ٹائم، کسٹمز کلیئرنس، لاجسٹکس، شپ کلیئرنس اور دیگر اہم اشاریوں کو شامل کیا جائے گا۔
وزیراعظم نے ایس ایم ایز کا تجارت میں حصہ بڑھانے، رسک مینجمنٹ نظام مؤثر بنانے اور کارگو کلیئرنس کا عمل تیز کرنے کی ہدایت کی۔ انہوں نے ہائی رسک کارگو کی تفصیلی جانچ اور رسک مینجمنٹ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر بھی زور دیا۔
اجلاس میں رواں مالی سال کے اختتام تک پری ارائیول کلیئرنس 30 فیصد، گرین چینل کا حصہ 65 فیصد اور مجاز اقتصادی آپریٹرز کی تعداد 50 سے زائد کرنے کے اہداف مقرر کیے گئے۔
وزیراعظم نے نان ٹیرف اقدامات کے جائزے کے لیے ورکنگ گروپ کی منظوری دیتے ہوئے ایک ماہ میں تجارت میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے روڈ میپ پیش کرنے کی ہدایت بھی کی۔




