کبھی خبر ہم تک پہنچنے کے لیے اخبار، ریڈیو یا ٹیلی ویژن کی محتاج ہوتی تھی۔ صبح کا اخبار دروازے پر آتا، ٹی وی پر خبر کا مقررہ وقت ہوتا اور ریڈیو سے خبریں سننے کے لیے لوگ خاص وقت نکالتے تھے۔ آج صورتحال بالکل مختلف ہے۔ اب خبر ہمارے پاس نہیں آتی، بلکہ ہمارا موبائل ہر وقت ہمارے ساتھ رہتا ہے اور چند سیکنڈز میں دنیا بھر کی معلومات ہماری اسکرین پر موجود ہوتی ہیں۔لیکن یہاں ایک دلچسپ سوال پیدا ہوتا ہے: کیا ہم اپنی مرضی کی خبریں دیکھ رہے ہیں یا کوئی الگورتھم ہماری مرضی طے کر رہا ہے؟
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر ہم جو کچھ دیکھتے ہیں، وہ محض اتفاق نہیں ہوتا۔ ہماری پسند، ہماری سرچز، ہماری دیکھی جانے والی ویڈیوز، ہم کتنی دیر کسی پوسٹ پر رکتے ہیں اور کن چیزوں پر ردعمل دیتے ہیں، یہ سب عوامل اس بات پر اثر انداز ہو سکتے ہیں کہ ہمیں آئندہ کیا دکھایا جائے گا۔
یہ نظام بظاہر ہماری سہولت کے لیے بنایا گیا ہے۔ اگر ہمیں کھیل پسند ہیں تو ہمیں کھیلوں سے متعلق مواد زیادہ دکھائی دیتا ہے، اگر ہمیں سیاست میں دلچسپی ہے تو سیاسی مواد ہماری ٹائم لائن پر زیادہ نظر آ سکتا ہے اور اگر ہمیں تفریحی ویڈیوز پسند ہیں تو چند ہی دنوں میں ہماری پوری فیڈ اسی نوعیت کے مواد سے بھر سکتی ہے۔
مسئلہ وہاں شروع ہوتا ہے جہاں سہولت اور حقیقت کے درمیان فاصلہ پیدا ہونے لگتا ہے۔جب ایک شخص مسلسل ایک ہی قسم کی معلومات دیکھتا ہے تو اسے آہستہ آہستہ محسوس ہونے لگتا ہے کہ شاید پوری دنیا بھی اسی طرح سوچتی ہے۔ مختلف رائے رکھنے والے لوگ اس کی نظر سے دور ہوتے جاتے ہیں اور ایک ایسا ڈیجیٹل ماحول تشکیل پاتا ہے جہاں اسے زیادہ تر وہی خیالات سنائی دیتے ہیں جن سے وہ پہلے ہی اتفاق کرتا ہے۔
یہ صورتحال صرف سیاسی معاملات تک محدود نہیں۔ معاشرتی مسائل، مذہبی مباحث، صحت، تعلیم، مشہور شخصیات اور حتیٰ کہ روزمرہ کے معاملات میں بھی سوشل میڈیا ہماری رائے بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔
اس کے ساتھ ایک اور بڑا مسئلہ غلط معلومات کا ہے۔ سوشل میڈیا پر کسی خبر کا تیزی سے پھیل جانا اس بات کی ضمانت نہیں کہ وہ خبر درست بھی ہے۔ ایک تصویر، ویڈیو یا چند سیکنڈز کا کلپ اپنے اصل پس منظر سے ہٹا کر پیش کیا جا سکتا ہے اور لوگ اسے مکمل حقیقت سمجھ کر آگے شیئر کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
یہاں صحافت کی ذمہ داری مزید بڑھ جاتی ہے۔ایک صحافی کے لیے خبر صرف یہ نہیں کہ کون سی چیز سب سے زیادہ وائرل ہو رہی ہے۔ اصل ذمہ داری یہ جاننا ہے کہ کیا چیز درست ہے، اس کا ذریعہ کیا ہے اور اسے عوام تک کس انداز میں پہنچایا جانا چاہیے۔
بدقسمتی سے سوشل میڈیا کے دور میں “سب سے پہلے خبر دینے” کی دوڑ نے بعض اوقات “درست خبر دینے” کی اہمیت کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ ایک غلط خبر چند منٹوں میں ہزاروں لوگوں تک پہنچ سکتی ہے، جبکہ اس کی تردید شاید اتنے لوگوں تک کبھی نہ پہنچ سکے۔
اس صورتحال میں عام صارف کی ذمہ داری بھی کم نہیں۔ ہمیں ہر وائرل پوسٹ کو خبر سمجھنے کے بجائے سوال کرنے کی عادت پیدا کرنا ہوگی۔ خبر کہاں سے آئی؟ اصل ذریعہ کیا ہے؟ کیا دوسرے معتبر ذرائع بھی یہی بات بتا رہے ہیں؟ تصویر یا ویڈیو پرانی تو نہیں؟ صرف چند سیکنڈز کی ویڈیو دیکھ کر مکمل واقعے کا فیصلہ تو نہیں کیا جا رہا؟
آج کا میڈیا صارف صرف خبر کا سامع یا ناظر نہیں رہا۔ وہ خود بھی خبر کو آگے پہنچانے والا بن چکا ہے۔ ایک کلک سے ہم کسی معلومات کو سینکڑوں یا ہزاروں لوگوں تک پہنچا سکتے ہیں۔ اسی لیے ڈیجیٹل ذمہ داری اب صحافیوں کے ساتھ ساتھ عام صارف کی بھی ضرورت بن چکی ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ سوشل میڈیا ہمارا دشمن نہیں۔ اس نے معلومات تک رسائی کو آسان بنایا، لوگوں کو اپنی آواز دی اور دنیا کے مختلف حصوں کو ایک دوسرے کے قریب کیا۔ مسئلہ ٹیکنالوجی نہیں بلکہ اس کا غیر ذمہ دارانہ استعمال ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اپنی سکرین پر آنے والی ہر چیز کو حقیقت کا مکمل عکس نہ سمجھیں۔ ہمیں مختلف ذرائع پڑھنے، سوال کرنے، تحقیق کرنے اور اپنی رائے کو تبدیل کرنے کی گنجائش رکھنے کی عادت ڈالنی ہوگی۔
کیونکہ آج کے دور میں سب سے طاقتور شخص وہ نہیں جو سب سے زیادہ خبریں دیکھتا ہے، بلکہ وہ ہے جو یہ سمجھتا ہے کہ اسے خبریں کیوں دکھائی جا رہی ہیں اور شاید آج ہمیں سب سے اہم سوال یہی پوچھنے کی ضرورت ہے،ہم سوشل میڈیا پر کیا دیکھ رہے ہیں، اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ سوشل میڈیا ہمیں کیا دکھانا چاہتا ہے-
تحریر: محمد انیس

نوٹ:youdigital.pkاوراس کی پالیسی کا کالم نگار/بلاگر کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں ہے۔




