بلاگز

عورت کا جسم نہیں، مجرم کا ارادہ دیکھیں

 تحریر: سعدیہ مجید

پاکستان میں جب بھی کسی عورت یا بچی کے ساتھ جنسی درندگی ہوتی ہے، ایک عجیب سماجی عدالت فوراً لگ جاتی ہے ۔ ہے در پے واقعات نے ان نام نہاد حلقوں کی تردید کر دی ہے جن کا خیال ہے کہ یہ درندگی عورت کے لباس،اور جسم کی نمائش کے ساتھ منسلک ہے ۔ کمسن شیر خوار بچیوں کے ساتھ  درندگی اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہے کہ اس وحشیانہ کھیل کا عورت کے لباس سے کوئی تعلق نہیں۔
اسی درندگی کے خلاف عورتوں نے "میرا جسم میری مرضی” کہا تھا۔ اس نعرے پر پاکستان میں شدید اعتراض ہوا۔ اسے بے حیائی، مغربی تہذیب اور اخلاقی انحراف سے جوڑا گیا۔ لیکن اس پورے تنازع میں ایک بنیادی سوال اکثر غائب رہا۔ اگر ایک عورت اپنے جسم پر اپنا حق مانگتی ہے تو اس کا مطلب یہ کب ہوگیا کہ کسی دوسرے شخص کو اس کے جسم پر حق مل گیا؟ "میرا جسم میری مرضی” کا بنیادی مفہوم یہی ہے کہ عورت کے جسم پر فیصلہ کرنے کا اختیار خود عورت کا ہے، نہ کہ اجنبی مرد کا، شوہر کا، ریاست کا، معاشرے کا یا کسی جنسی خواہش رکھنے والے فرد کا۔ اس نعرے کے خلاف شدید ردعمل بھی اسی لیے اہم ہے کہ اس نے پاکستان میں جسمانی خودمختاری اور جنسی تشدد پر ایک وسیع بحث پیدا کی۔
مگر آج سوال اس سے بھی آگے ہے۔
ہم لڑکیوں سے تو کہتے ہیں کہ اپنے جسم کی حفاظت کرو، مگر لڑکوں سے کتنی مرتبہ کہتے ہیں کہ کسی دوسرے انسان کے جسم پر تمہارا کوئی حق نہیں؟
ایزل کا سانحہ اسی اجتماعی ناکامی کی ایک انتہائی تکلیف دہ تصویر ہے۔ ایک کمسن بچی، جس کے بارے میں دستیاب اطلاعات کے مطابق اسے مبینہ طور پر بہانے سے لے جایا گیا، جنسی درندگی کا شکار ہوئی اور جان سے ہاتھ دھو بیٹھی۔ پولیس نے ایک ملزم کو گرفتار کیا ہے اور معاملہ قانونی کارروائی کے مرحلے میں ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ

اور یہی وہ مقام ہے جہاں "عورت نے کیا پہنا تھا” کا پورا بیانیہ زمین بوس ہوجاتا ہے۔ایک شیر خوار بچی کیا پہنتی ہے؟ایک کمسن بچی کس چیز کی نمائش کرتی ہے؟ایک بچہ کس طرح کسی مرد کی جنسی خواہش کا ذمہ دار ہوسکتا ہے؟یہاں لباس کا سوال ہی بے معنی ہوجاتا ہے۔یہاں صرف مجرم کا ارادہ رہ جاتا ہے۔ جنسی درندگی کو "فرسٹریشن” کہنا بند کرنا ہوگا۔ اسے محض "نفسیاتی مسئلہ” کہہ کر انسانی جرم کی اخلاقی اور قانونی ذمہ داری دھندلی نہیں کی جاسکتی۔  جنسی تشدد ایک جرم ہے۔ ذہنی دباؤ اور مایوسی کا کسی بھی قسم کی معاشرتی یا معاشی محرومی اس درندگی کی دلیل نہیں بن سکتی ۔
ہر ذہنی دباؤ کا شکار شخص ریپسٹ نہیں ہوتا۔ہر مایوس شخص جنسی مجرم نہیں ہوتا۔ہر نفسیاتی مسئلہ کسی بچے پر حملے کی وضاحت نہیں کرتا۔
اور ہر جنسی مجرم کو صرف "مریض” کہہ کر اس کے جرم کی سنگینی کم نہیں کی جاسکتی۔

اگر کسی فرد کو طبی یا نفسیاتی علاج کی ضرورت ہے تو وہ اپنی جگہ موجود ہے، مگر جرم ثابت ہونے کی صورت میں جواب دہی بھی اپنی جگہ موجود رہے گی۔ کونسلنگ سزا کا متبادل نہیں ہوسکتی۔ علاج accountability کو ختم نہیں کرسکتا۔ rehabilitation انصاف کی جگہ نہیں لے سکتی۔

بچے کو تحفظ چاہیے۔متاثرہ خاندان کو انصاف چاہیے۔
اور جرم ثابت ہونے والے مجرم کو قانون کے مطابق سزا چاہیے۔پاکستان میں اس بحث کو صرف ایزل تک محدود رکھنا بھی غلط ہوگا۔ UNICEF کے مطابق دنیا بھر میں لڑکیاں اور لڑکے دونوں بچپن میں جنسی تشدد کا شکار ہوتے ہیں۔ 2024 کے UNICEF تخمینے کے مطابق 370 ملین سے زیادہ لڑکیوں اور خواتین نے 18 سال کی عمر سے پہلے rape یا sexual assault کا سامنا کیا، جبکہ لڑکوں اور مردوں کے لیے بھی یہ تعداد تقریباً 240 سے 310 ملین تک بتائی گئی۔
یعنی یہ صرف بچیوں کا مسئلہ نہیں۔یہ بچوں کا  بھی مسئلہ ہے۔

پاکستان میں دستیاب monitoring بھی تشویش ناک تصویر دکھاتی ہے۔ Sahil کی 2024 رپورٹنگ کے مطابق رپورٹ ہونے والے child abuse cases میں لڑکیوں کا تناسب 53 فیصد جبکہ لڑکوں کا 47 فیصد تھا۔ یہ اعداد ایک اہم حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ بچوں کے خلاف جنسی تشدد کو صرف "عورتوں کا مسئلہ” سمجھنا بھی غلط ہے۔ لڑکے بھی متاثر ہوتے ہیں، مگر معاشرتی شرمندگی اور خاموشی ان کے تجربات کو مزید چھپا سکتی ہے۔

تو پھر لڑکوں کی تربیت کہاں ہے؟ اس در دندگی کا تناسب دیکھیں تو لڑکے اور مرد کسی بھیڑیے کی طرح دندناتے نظر آتے ہیں ۔
بیٹے کو کیا بتایا؟ معاشرے کے مرد کو کیا سکھایا؟
ہم نے بیٹی کو کہا کہ کسی اجنبی پر اعتماد نہ کرنا۔
ہم نے بیٹی کو کہا کہ اپنے جسم کو ڈھانپ کر رکھنا۔
بیٹے کو کیا بتایا؟

ہم نے بیٹی کو کہا کہ رات میں باہر نہ نکلنا۔
بیٹے کو کیا بتایا؟

یہاں تک کہ جب ایک عورت کے ساتھ لاہور سیالکوٹ موٹروے پر ستمبر 2020 میں اجتماعی زیادتی ہوئی تو پولیس کے ایک اعلیٰ افسر نے متاثرہ خاتون کے رات کے سفر، اکیلے گاڑی چلانے اور راستے کے انتخاب پر سوال اٹھائے۔ اس واقعے پر انسانی حقوق کی تنظیموں اور معاشرے کے بڑے حصے نے شدید ردعمل دیا کیونکہ توجہ مجرموں کے بجائے متاثرہ خاتون کے فیصلوں پر منتقل کردی گئی تھی۔

وہ رات میں کیوں نکلی؟یہ سوال نہیں ہونا چاہیے تھا۔
سوال یہ ہونا چاہیے تھا کہ مجرموں نے اسے کیوں روکا؟
اس پر حملہ کیوں کیا؟
ریاستی تحفظ کہاں تھا؟
پولیس نے بروقت مدد کیوں نہیں پہنچائی؟
اور ایسے مجرموں کو سزا کا یقین کیوں نہیں تھا؟
ایک عورت کا رات میں سفر کرنا جرم نہیں۔
ایک عورت کا اکیلے گاڑی چلانا جرم نہیں۔
ایک عورت کا اپنی مرضی کا لباس پہننا جرم نہیں۔
ایک عورت کا اپنے جسم پر اختیار مانگنا جرم نہیں۔
جرم وہ ہے جب کوئی شخص دوسرے انسان کی رضامندی، جسم اور حرمت کو پامال کرے۔

یہاں معاشرے کے ان حلقوں سے بھی سوال ضروری ہے جو ہر جنسی جرم کے بعد عورت کے لباس کو موضوع بناتے ہیں۔ اگر لباس ریپ کا سبب ہے تو پھر شیر خوار بچوں کے خلاف جنسی جرائم کی کیا توجیہ ہوگی؟ اگر عورت کی نمائش مرد کو مجبور کرتی ہے تو پھر ان بچوں کی کیا وضاحت ہے جنہوں نے کبھی اپنے وجود کے معنی بھی نہیں سمجھے؟
یہ دلیل اسی مقام پر مر جاتی ہے۔ایک بچی کی معصومیت کے سامنے لباس کا بیانیہ بے معنی ہوجاتا ہے۔
اور اسی لیے لڑکوں کی تربیت ضروری ہے۔
لڑکے کو یہ سکھانا ہوگا کہ عورت انسان ہے، جسم نہیں۔
بچی انسان ہے، موقع نہیں۔
کمزور انسان طاقت کے استعمال کی اجازت نہیں۔
اور جنسی خواہش کسی دوسرے انسان کے حق کو ختم نہیں کرتی۔

یہ تربیت گھر میں ہونی چاہیے۔ اسکول میں ہونی چاہیے۔ مدرسے میں ہونی چاہیے۔ کالج میں ہونی چاہیے۔ میڈیا میں ہونی چاہیے۔ والدین کو لڑکیوں کے ساتھ ساتھ لڑکوں سے بھی جسمانی حدود، رضامندی، احترام اور ذمہ داری کی بات کرنی ہوگی۔

ورنہ ہم ایک عجیب معاشرہ بناتے رہیں گے جہاں بیٹی کو ہر وقت خطرے سے بچنے کی تربیت دی جائے گی اور بیٹے کو خطرہ نہ بننے کی تربیت نہیں دی جائے گی۔

یہ عدم توازن ناقابل دفاع ہے۔
لڑکے کو یہ سکھانا کوئی مغربی تصور نہیں۔
یہ بنیادی انسانی اخلاق ہے۔

اور اگر ہم اپنے بیٹوں کو یہ نہیں سکھاتے تو پھر ہمیں صرف بچیوں کی آزادی محدود کرنے کا حق بھی نہیں ہونا چاہیے۔کیونکہ آزادی کا بوجھ ہمیشہ کمزور پر نہیں ڈالا جاسکتا۔

موٹروے پر عورت کو کہا گیا کہ رات میں کیوں نکلی۔
آج ایزل کے معاملے میں کوئی یہ نہیں پوچھ سکتا کہ اتنی کمسن بچی نے اپنے تحفظ کے لیے کیا کیا تھا۔
وہ کچھ نہیں کرسکتی تھی۔
اس لیے اصل سوال ہمیشہ ایک ہی رہے گا۔
مجرم نے کیا کیا؟
یہ سوال عورت کے لیے بھی یہی ہونا چاہیے اور بچے کے لیے بھی۔
دنیا میں بچیوں کی عمریں چند ماہ سے لے کر سترہ سال تک ہوسکتی ہیں، مگر ان کی عمر کسی مجرم کے لیے اجازت نامہ نہیں۔ شیر خوار بچی ہو، اسکول جانے والی بچی ہو، تیرہ سالہ لڑکی ہو یا سترہ سالہ نوجوان، جنسی تشدد کا ذمہ دار ہمیشہ وہ شخص ہے جو طاقت، دھمکی، فریب یا جبر استعمال کرتا ہے۔ متاثرہ کی عمر، لباس یا وقت جرم کی ذمہ داری منتقل نہیں کرتے۔
یہاں ہمیں اپنی اجتماعی لغت میں ایک لفظ واپس لانا ہوگا۔
ذمہ داری۔
لڑکے کو اپنی خواہش کی ذمہ داری سکھانا ہوگی۔
مرد کو اپنے اختیار کی ذمہ داری سکھانا ہوگی۔
ریاست کو اپنے تحفظ کی ذمہ داری سکھانی ہوگی۔
پولیس کو اپنی تفتیش کی ذمہ داری اٹھانی ہوگی۔
عدالت کو انصاف میں غیر ضروری تاخیر سے بچنا ہوگا۔
اور معاشرے کو victim blaming سے دستبردار ہونا ہوگا۔
ایزل کے جیسے سانحات کے بعد ہمیں صرف سزا کی بات نہیں کرنی چاہیے، بلکہ سزا کے یقین کی بات کرنی چاہیے۔ گرفتاری خبر کا اختتام نہیں، آغاز ہے۔ تفتیش مضبوط ہونی چاہیے، فرانزک شواہد محفوظ ہونے چاہئیں، متاثرہ خاندان کو تحفظ ملنا چاہیے اور جرم ثابت ہونے پر قانون کے مطابق سخت سزا یقینی ہونی چاہیے۔

ہجوم کا انتقام انصاف نہیں۔
مگر کمزور قانون اور تاخیر بھی انصاف نہیں۔
ریاست کو ایسا نظام بنانا ہوگا جہاں مجرم کو یہ یقین نہ ہو کہ وہ پیسے، اثر و رسوخ، خاندان، سماجی حیثیت یا قانونی تاخیر کے ذریعے بچ جائے گا۔

ہمیں اپنی بیٹیوں سے یہ کہنا بند کرنا ہوگا کہ تم خود کو محفوظ رکھو اور اپنے بیٹوں سے یہ کہنا شروع کرنا ہوگا کہ تم کسی دوسرے انسان کے لیے خطرہ نہ بنو۔
یہ فرق معمولی نہیں۔
یہ پورے معاشرے کی سمت بدل سکتا ہے۔
"میرا جسم میری مرضی” پر اعتراض کرنے والوں کو ایک لمحے کے لیے ایزل کے سامنے کھڑا ہونا چاہیے۔
پھر خود سے پوچھنا چاہیے کہ ایک بچے کے جسم پر کس کی مرضی تھی؟
اس کی تو کوئی مرضی تھی ہی نہیں۔
اس کے پاس اختیار ہی نہیں تھا۔
اس کے پاس دفاع ہی نہیں تھا۔
اس کے پاس صرف ہمارا اعتماد تھا۔
اور ہم اس اعتماد کی حفاظت نہیں کرسکے۔
اس لیے اب عورت کے لباس پر بحث بند ہونی چاہیے۔
رات کے وقت اس کے سفر پر سوال بند ہونا چاہیے۔
اس کی آزادی کو جرم کے ساتھ جوڑنا بند ہونا چاہیے۔
اور لڑکوں کی تربیت کو قومی مسئلہ بنانا چاہیے۔
کیونکہ کسی بیٹی کو محفوظ بنانے کا بہترین طریقہ صرف اس کے قدم محدود کرنا نہیں۔
اپنے بیٹوں کے قدموں کو اخلاق، قانون اور ذمہ داری سے باندھنا بھی ہے۔
ایزل کی عمر نے ہمیں ایک آخری سبق دیا ہے۔جنسی درندگی کی کوئی عمر نہیں ہوتی۔متاثرہ کی عمر چند ماہ ہو یا سترہ سال، جرم جرم رہتا ہے۔اور مجرم کی عمر جو بھی ہو، اگر عدالت کے سامنے جرم ثابت ہوجائے تو قانون کو اپنی پوری قوت کے ساتھ حرکت میں آنا چاہیے۔

کونسلنگ اپنی جگہ ہوسکتی ہے۔علاج اپنی جگہ ہوسکتا ہے.مگر انصاف اپنی جگہ ہے۔اور ایزل جیسے بچوں کے لیے انصاف کسی رعایت کا نام نہیں۔
یہ ریاست کی بنیادی ذمہ داری ہے۔

اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button