بلاگز

سوشل میڈیا اور محبت کے کشکول میں رکھی ہوئی عورت

 تحریر: سعدیہ مجید

عورت کو شاید محبت ہی اس لیے کی جاتی ہے کہ محبت کے نام پر اس کی تذلیل کی جا سکے۔ یہ ایک ایسا بہکاوا ہے جو عورت کا دل جیت لیتا ہے، اور بہکاوے تو آخر بہکاوے ہی ہوتے ہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ مطلوب کی طلب پوری ہوتے ہی گویا اسے ذلیل کرنے کا ایک غیر اعلانیہ سرٹیفکیٹ مل جاتا ہے۔
عورت، عربی لغت کے مفہوم اور قرآنِ مجید کی بیان کردہ انسانی فطرت کے مطابق، جذباتی اعتبار سے زیادہ حساس اور نرم دل تخلیق کی گئی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے تخلیق کے عمل میں اس کے وجود کو محبت، شفقت، رحمت اور نسلِ انسانی کی بقا کے لیے جذبات کی ایک غیر معمولی وسعت عطا کی۔ مگر یہی جذبات، جب کسی کے مفاد کا ذریعہ بن جائیں، تو عورت کا دل بہلایا بھی جاتا ہے اور بہکایا بھی۔ کبھی کسی نے محبت کا خواب دکھایا تو وہ بک گئی، کبھی شادی کے نام پر اس سے سمجھوتہ کروا لیا گیا، اور یوں محبت اور رشتے کے نام پر اس کا استحصال مسلسل جاری رہا۔
کیا خوب صورت ستم ہے کہ دن رات کی تذلیل، بے اعتنائی اور جذباتی اذیت کے بعد بھی وہ صرف ایک جملے پر پھر سے یقین کر لیتی ہے: "بیوی تو صرف تم ہی ہو، یہ باہر کی عورتیں ہیں، آج ہیں، کل نہیں۔” وہ اندر سے مر چکی ہوتی ہے، مگر بیوی کے منصب پر فائز رہتی ہے۔ اسے یہ منصب گویا ایک کشکول میں ملا ہوتا ہے، مگر افسوس کہ وہ اسی کشکول کو اپنا اعزاز سمجھ کر سینے سے لگائے رکھتی ہے۔
ہائے رے دل کا آ جانا۔ یہی بھیک اسے اعزاز محسوس ہونے لگتی ہے۔
محبت، جب اپنی اصل صورت میں ہو، تو انسان کو مکمل کرتی ہے۔ اس میں احترام ہوتا ہے، اطمینان ہوتا ہے، اعتماد ہوتا ہے اور ایک دوسرے کی ذات کے لیے جگہ ہوتی ہے۔ لیکن جب محبت طاقت کی زبان بولنے لگے، اختیار کا لباس پہن لے اور جذبات کو ہتھیار بنا لے، تو وہ محبت نہیں رہتی، ایک خاموش استحصال میں بدل جاتی ہے۔ ایسا استحصال جس میں جسم سے پہلے روح زخمی ہوتی ہے، اور آواز سے پہلے خاموشی مر جاتی ہے۔
ہمارے معاشرے میں عورت کو محبت کا سب سے زیادہ درس دیا جاتا ہے، مگر محبت کے بدلے سب سے کم محبت بھی اسی کو ملتی ہے۔ اسے صبر سکھایا جاتا ہے، برداشت سکھائی جاتی ہے، ایثار کا سبق پڑھایا جاتا ہے، مگر مرد کو جذباتی دیانت، وفاداری اور احترام کا وہی سبق نہیں دیا جاتا۔ یوں محبت کا ترازو ابتدا ہی سے ایک پلڑے پر جھکا دیا جاتا ہے۔
عورت جب کسی رشتے میں داخل ہوتی ہے تو وہ صرف ایک شخص کو قبول نہیں کرتی، بلکہ اس سے وابستہ پورے مستقبل کو اپنا مقدر سمجھ لیتی ہے۔ اس کے خواب، اس کی دعائیں، اس کی جوانی، اس کی شناخت اور اس کی عمر، سب اسی رشتے کے گرد گھومنے لگتے ہیں۔ مگر بہت سے مردوں کے لیے محبت اکثر ایک مرحلہ ہوتی ہے، جبکہ عورت کے لیے وہ پوری زندگی کا نام بن جاتی ہے۔ یہی فرق استحصال کی پہلی اینٹ رکھ دیتا ہے۔
ایکسٹرا میریٹل افیئر ہو یا قانونی شادی، اگر دونوں میں عورت کا صرف جذباتی استعمال، بے اعتنائی، نفسیاتی دباؤ اور تذلیل ہی نصیب ہو، تو فرق صرف سماجی شناخت کا رہ جاتا ہے، دکھ کا نہیں۔ ایک عورت دوسری کہلاتی ہے اور دوسری پہلی، مگر اگر دونوں کے حصے میں احترام نہ آئے تو دونوں ایک ہی دکھ کے دو نام بن جاتی ہیں۔
بدقسمتی یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ مسئلے کی جڑ تک پہنچنے کے بجائے عورت کے صبر کو اس کی ذمہ داری بنا دیتا ہے۔ اگر شوہر بے وفا ہے تو عورت سے کہا جاتا ہے کہ گھر بچاؤ۔ اگر مرد بدل گیا ہے تو عورت سے کہا جاتا ہے کہ خود کو بدل لو۔ اگر محبت مر گئی ہے تو عورت سے کہا جاتا ہے کہ بچوں کی خاطر زندہ رہو۔ گویا ہر سوال کا جواب صرف عورت کی قربانی میں تلاش کیا جاتا ہے۔
پروین شاکر کی شاعری میں عورت صرف محبوبہ نہیں، ایک زخمی احساس ہے۔ وہ محبت کو مانگتی نہیں، اس میں اپنا وجود تلاش کرتی ہے۔ مگر جب محبت ہی اس کی شناخت کو نگلنے لگے تو عورت اپنے ہی دل کے ملبے پر کھڑی رہ جاتی ہے۔ اسی لیے ان کے اشعار میں خوشبو بھی ہے اور تنہائی بھی، انتظار بھی ہے اور شکست بھی۔
فہمیدہ ریاض نے عورت کو محض رشتوں کی زینت نہیں بلکہ ایک مکمل انسان کے طور پر دیکھا۔ ان کے ہاں عورت سوال کرتی ہے کہ محبت اگر عزت نہ دے، تو کیا وہ محبت رہ جاتی ہے؟ اگر وفاداری یک طرفہ ہو، تو کیا اسے رشتہ کہا جا سکتا ہے؟
المیہ یہ نہیں کہ چند مرد بے وفا ہوتے ہیں، بلکہ المیہ یہ ہے کہ معاشرہ اس بے وفائی کو معمول بنانے لگتا ہے۔ مرد کے کردار کو فطرت کہہ کر معاف کر دیا جاتا ہے، اور عورت کے صبر کو اس کا زیور قرار دے دیا جاتا ہے۔ یوں استحصال صرف ایک فرد کا عمل نہیں رہتا بلکہ پورا سماج اس کا محافظ بن جاتا ہے۔
یہ وہ دیمک ہے جو لکڑی کو باہر سے نہیں، اندر سے کھاتی ہے۔ رشتے بھی اسی طرح بظاہر سلامت رہتے ہیں، مگر اندر سے کھوکھلے ہو چکے ہوتے ہیں۔ گھر آباد دکھائی دیتے ہیں، لیکن دل اجڑ چکے ہوتے ہیں۔ محبت موجود ہوتی ہے، مگر اس کی روح کہیں راستے میں مر چکی ہوتی ہے۔
محبت کی سب سے بڑی شکست بے وفائی نہیں ہوتی، بلکہ وہ لمحہ ہوتا ہے جب ایک عورت اپنی تذلیل کو محبت کا لازمی حصہ سمجھنے لگتی ہے۔ جب وہ یہ یقین کر لے کہ خاموش رہنا ہی وفاداری ہے، برداشت کرنا ہی کردار ہے اور خود کو مٹا دینا ہی رشتے کی بقا ہے، تو سمجھ لیجیے کہ محبت اپنی اخلاقی موت مر چکی ہے۔ اس کے بعد جو کچھ باقی رہتا ہے، وہ صرف تعلق کا ڈھانچہ ہوتا ہے، رشتے کی روح نہیں۔

اس معاشرے نے عورت کو ہمیشہ جذباتی ہونے کا طعنہ دیا، مگر کبھی یہ سوال نہیں کیا کہ اسے جذبات کے سہارے جینے پر مجبور کس نے کیا؟ بچپن سے اسے یہی سکھایا گیا کہ محبت سب کچھ ہے، شوہر اس کی دنیا ہے، گھر اس کی منزل ہے، برداشت اس کی زینت ہے اور خاموشی اس کا وقار ہے۔ پھر جب یہی عورت انہی تعلیمات کے مطابق اپنی ذات قربان کر دیتی ہے تو اسے کمزور، جذباتی اور نادان کہہ دیا جاتا ہے۔ یہ کیسا انصاف ہے کہ اصول بھی عورت کے لیے ہوں اور سزا بھی؟

کشور ناہید نے عورت کو ایک ایسے وجود کے طور پر دیکھا جو صدیوں سے اپنے ہی وجود کا مقدمہ لڑ رہی ہے۔ ان کی شاعری میں عورت صرف محبت کی طلب گار نہیں بلکہ عزت، شناخت اور برابری کی متلاشی ہے۔ اسی طرح بانو قدسیہ نے کئی مقامات پر اس حقیقت کی طرف اشارہ کیا کہ محبت اگر روح کی تربیت نہ کرے تو وہ صرف خواہش کا دوسرا نام رہ جاتی ہے۔

آج سوشل میڈیا نے اس المیے کو ایک نئی شکل دے دی ہے۔ جذبات اب اظہار سے زیادہ نمائش بن چکے ہیں۔ تعلقات کی گہرائی کو تصویروں سے ناپا جاتا ہے اور وفاداری کو اسٹیٹس اپ ڈیٹس سے۔ محبت اب ایک مستقل کیفیت نہیں بلکہ وقتی تاثر بن گئی ہے۔ اس عہد میں لوگ رشتے کم اور امکانات زیادہ رکھتے ہیں۔ ہر نیا چہرہ ایک نئی کشش ہے اور ہر پرانا رشتہ ایک بوجھ محسوس ہونے لگا ہے۔

یہی وہ ہائبرڈ معاشرہ ہے جہاں ایک شخص بیک وقت وفاداری کے دعوے بھی کرتا ہے اور جذباتی خیانت کو اپنی فطرت بھی قرار دیتا ہے۔ زبان پر محبت، دل میں خود غرضی اور عمل میں مفاد… یہی اس دور کی سب سے بڑی اخلاقی شکست ہے۔

استحصال صرف جسم کا نہیں ہوتا، جذبات کا بھی ہوتا ہے۔ اور جذباتی استحصال اس لیے زیادہ خطرناک ہے کہ اس کے زخم دکھائی نہیں دیتے۔ عورت ہنستی بھی رہتی ہے، مہمانوں کی خدمت بھی کرتی ہے، بچوں کی تربیت بھی کرتی ہے، مگر اندر ہی اندر اپنی شناخت کے جنازے میں خود شریک ہوتی رہتی ہے۔ اس کے آنسو اکثر تکیے جذب کر لیتے ہیں، اس کی چیخیں دیواریں سن لیتی ہیں، مگر معاشرہ صرف اس کی خاموشی کو اس کی رضا سمجھ لیتا ہے۔

اصل سوال یہ نہیں کہ قصور صرف مرد کا ہے یا صرف عورت کا۔ سوال یہ ہے کہ ہم نے محبت کو کس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا ہے؟ کیا محبت اب ایک اخلاقی ذمہ داری ہے یا صرف ایک جذباتی سرمایہ کاری، جس سے فائدہ ختم ہوتے ہی تعلق بھی ختم ہو جاتا ہے؟ اگر محبت عزت نہ دے، اعتماد نہ دے اور تحفظ نہ دے تو پھر وہ محبت کس کام کی؟

آج کل ایک نیا بیانیہ بہت مقبول ہے۔ چالیس برس کے بعد اپنی زندگی جیو۔ خود کو دریافت کرو۔ دنیا دیکھو۔ اپنی خوشیوں کو ترجیح دو۔ یہ بات بظاہر دلکش لگتی ہے، مگر اس کے پیچھے ایک گہرا سماجی المیہ چھپا ہوا ہے۔

میرا سوال اس معاشرے سے یہ ہے کہ وہ چالیس سال کہاں گئے جن میں ایک دوسرے کے لیے جینا تھا؟ وہ برس کس کے نام ہوئے؟ اگر جوانی سمجھوتوں، جذباتی استحصال، خاموش اذیت، بے وفائی اور خود کو مٹانے میں گزر گئی تو اب بڑھاپے کی آزادی کس کامیابی کا اعلان ہے؟ اگر زندگی کا سب سے خوب صورت حصہ ایک دوسرے کو برداشت کرنے میں گزر جائے اور آخری حصہ ایک دوسرے سے نجات حاصل کرنے کے فلسفے میں، تو پھر محبت نے انسان کو دیا کیا؟

چالیس سے پہلے بھی تو ہر شخص اپنی ذات ہی کے لیے جیتا رہا۔ مرد اپنی خواہشات کے لیے، عورت اپنے رشتے کو بچانے کے لیے۔ اب چالیس کے بعد پھر اپنی اپنی زندگی جینے کا اعلان دراصل اس اجتماعی ناکامی کا اعتراف ہے کہ ہم محبت کو نبھا نہ سکے، ہم رشتے کو سمجھ نہ سکے، ہم احترام کو محبت کا بنیادی ستون مان نہ سکے۔

پوسٹ ماڈرن عہد نے انسان کو آزادی تو دی، مگر تعلق چھین لیا۔ انتخاب تو دیا، مگر استقامت چھین لی۔ خواہشات بڑھا دیں، مگر وفاداری کم کر دی۔ یہی وجہ ہے کہ آج محبت پہلے سے زیادہ دکھائی دیتی ہے، مگر پہلے سے کہیں کم محسوس ہوتی ہے۔

شاید اب وقت آ گیا ہے کہ محبت کو دوبارہ عزت کا دوسرا نام بنایا جائے، نہ کہ تذلیل کا۔ عورت کو قربانی کی علامت نہیں بلکہ مکمل انسان سمجھا جائے۔ رشتوں کو کشکول میں ڈال کر خیرات کی طرح نہ بانٹا جائے بلکہ امانت سمجھ کر نبھایا جائے۔

ورنہ آنے والی نسلیں محبت پر یقین نہیں کریں گی، صرف اس کے ڈرامے پر یقین کریں گی۔ اور جس معاشرے میں محبت تماشہ بن جائے، وہاں دل زندہ نہیں رہتے، صرف کردار زندہ رہ جاتے ہیں۔

اک سوچ …تحریر: سعدیہ مجید

نوٹ: یہ بلاگر کی ذاتی رائے ہے اس سے ادارہ کا متفق ہونا ضروری نہیں ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button