پاکستان

"دشمن کو خبر تک نہ ہو! چین کا پاکستان کو ’خاموش قاتل‘ جے-35 دینے کا اعلان”

پاکستان اور انڈیا کی جانب سے مئی میں چار روز تک ایک دوسرے پر حملوں کے تبادلے کے ایک ماہ بعد اب دونوں ممالک میں گفتگو سفارتی محاذ سے ہوتی ہوئی اپنی دفاعی صلاحیتوں کو مزید بہتر بنانے کے بارے میں ہو رہی ہے۔

انڈیا کی جانب سے اس دوران پاکستان کی جانب سے طیارے گرائے جانے کے حوالے سے براہ راست اعتراف نہیں کیا گیا تاہم انڈین چیف آف ڈیفنس سٹاف جنرل انیل چوہان نے ان دعوؤں پر پہلی مرتبہ جواب دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’اہم بات یہ نہیں کہ طیارے گرائے گئے بلکہ یہ کہ وہ کیوں گرائے گئے۔ کیا غلطیاں ہوئیں، یہ باتیں اہم ہیں۔ نمبر اہم نہیں ہوتے۔‘

ان کے اس بیان کے بعد سے گفتگو کا محور دونوں ممالک کی فضائی صلاحیتیں اور فضائی دفاعی نظام بن گئے ہیں۔

انڈیا کی وزارتِ دفاع نے مئی کے اواخر میں جدید ترین ’ففتھ جنریشن سٹیلتھ‘ جنگی طیارے ملک میں بنانے کی منظوری دی تھی۔ ایروناٹیکل ڈویلپمنٹ ایجنسی اس منصوبے کو انڈیا میں کام کرنے والی پرائیویٹ کمپنیوں کے اشتراک سے سرانجام دے گی۔

اس کے علاوہ انڈیا میں اس حوالے سے بھی بحث جاری ہے کہ آیا اس کی فضائیہ کو روسی ایس یو 57 یا امریکی ایف 35 اور ایف 22 ریپٹر خرید لینے چاہییں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button