پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز کی جدہ سے اسلام آباد آنے والی پرواز میں ایک خاتون مسافر کا موبائل فون جہاز کے ائیروینٹیلیشن سسٹم میں گرنے کے بعد 13 دن تک بحفاظت بازیاب نہ کیا جا سکا، جس پر خاتون مسافر نے ادارے پر غفلت برتنے کا الزام عائد کرتے ہوئے ویڈیو پیغام جاری کر دیا۔ خاتون نے واقعے کی ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر شیئر کی، جو دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو گئی۔
ذرائع کے مطابق،6 جولائی 2025 کو جدہ سے اسلام آباد سفر کرتے ہوئے، خاتون مسافر کا اسمارٹ فون ہاتھ سے گرا اور سیٹ کے ساتھ، پی آئی اے کی پرواز بوئنگ 777 طیارے کے کھلے وینٹی لیشن سسٹم میں جا گرا۔ لینڈنگ کےبعد عملے نے مسافر کو لاؤنج میں بھجوا دیا اور کہا کہ آپ کا فون وہاں پر دے دیا جائے گا، خاتون کے مطابق وہ لاؤنج میں انتظار کر رہی تھی کہ عملے نے آ کر بتایا کہ انہوں نے سب چیک کر لیا،، فون وہاں پر نہیں ہے۔ خاتون کے مطابق انہوں نے فوٹیج دکھائی کہ یہ وینٹی لیشن کھلا ہے، اس میں فون گرا ہے، لوکیشن بھی دکھائی مگر عملہ نہ مانا۔ خاتون مسافر لائیو لوکیشن کے ذریعے کئی روز اپنا فون سعودیہ سے پاکستان کے درمیان سفر کرتے مانیٹر کرتی رہی
متاثرہ مسافر نے دعویٰ کیا کہ طیارے کے عملے نے کئی روز تک موبائل کے وینٹیلیشن سسٹم میں موجود ہونے سے انکار کیا، جب کہ انہوں نے مسلسل موبائل کی لائیو لوکیشن کے ذریعے طیارے کی نقل و حرکت پر نظر رکھی۔
پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ خان کے مطابق، خاتون کا موبائل 19 جولائی کو جہاز کا فرش کھول کر نکالا گیا اور انہیں واپس کر دیا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جہاز کا فرش شیڈولڈ پروازوں کی وجہ سے فوری طور پر نہیں کھولا جا سکا تھا۔ ترجمان کے مطابق، "پی آئی اے انتظامیہ اس پورے عرصے کے دوران مسافر کے ساتھ مسلسل رابطے میں رہی اور انجینئرنگ ٹیم نے تکنیکی معائنے کے بعد بالآخر موبائل بازیاب کر لیا۔
خاتون کے اہل خانہ نے پی آئی اے کے رویے پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے معاملہ وفاقی محتسب کو تحقیقات کیلئے بھجوا دیا ہے




