اسلام آباد: وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ دریائے سندھ پاکستان کے عوام کی لائف لائن ہے، اور حکومت اس کے آبی حقوق کے تحفظ کے لیے کوئی کسر نہیں چھوڑے گی۔ یہ بات انہوں نے ’صحراؤں اور قحط سے نمٹنے کے عالمی دن‘ کے موقع پر جاری بیان میں کہی۔
انہوں نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیا۔ وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان کے 24 کروڑ عوام کی بقا دریائے سندھ سے جڑی ہے، اور ہم اپنے آبی وسائل کے دفاع کا ہر ممکن طریقے سے عزم رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی 68 فیصد زمین بنجر یا نیم بنجر ہو چکی ہے، جب کہ بلوچستان، سندھ اور جنوبی پنجاب قحط سالی سے شدید متاثر ہیں۔ وزیراعظم کے مطابق زمین کی زوال پذیری کی بنیادی وجوہات میں جنگلات کی کٹائی، سیم و تھور، چرائی، اور غیر منصوبہ بند ترقی شامل ہیں۔
وزیراعظم نے ’زمین کو بحال کریں، مواقع کھولیں‘ کے عنوان کو بروقت قرار دیا اور بتایا کہ گرین پاکستان پروگرام کے تحت اب تک 2 ارب 20 کروڑ سے زائد درخت لگائے جا چکے ہیں۔ انہوں نے زمین، پانی اور ماحولیاتی نظام کی بحالی کو حکومت کی موسمیاتی پالیسی کا بنیادی ستون قرار دیا۔
انہوں نے تمام اسٹیک ہولڈرز سے اپیل کی کہ وہ آئندہ نسلوں کے لیے زمین کی بحالی اور موسمیاتی تحفظ میں اپنا کردار ادا کریں۔




