وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بجٹ 2025-26 میں پنشن فنڈز کا حجم ایک ٹریلین روپے سے تجاوز کر گیا ہے، جو ترقیاتی بجٹ سے بھی بڑا ہے۔ اس صورتحال کے پیش نظر 10 ملین روپے سے زیادہ پینشن پر 5 فیصد ٹیکس لگانے کی تجویز دی گئی ہے تاکہ دیگر اہم شعبوں کے لیے وسائل مہیا کیے جا سکیں۔
انہوں نے اسلام آباد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "ملکی معیشت کو مستحکم بنانے کے لیے ڈھانچہ جاتی اصلاحات اور اخراجات میں کمی ناگزیر ہے۔” ان کا کہنا تھا کہ توانائی کے ذخائر، قیمتوں پر کنٹرول، اور قرضوں کے انتظام پر حکومت بھرپور توجہ دے رہی ہے۔
وزیر خزانہ نے مزید کہا کہ پنشن اصلاحات میں سندھ اور خیبرپختونخوا کے تجربات سے سیکھنے کی ضرورت ہے، تاکہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ اور پنشن کنٹری بیوشن ماڈل کو مؤثر بنایا جا سکے۔ اس کے ساتھ ساتھ ٹیرف اصلاحات پر بھی کام جاری ہے، جس کے ممکنہ اثرات پر قابو پانے کے لیے وزیراعظم نے ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ امریکی وزیر تجارت سے ملاقات مثبت رہی اور پاکستان عالمی سطح پر ایک مسابقتی مارکیٹ کے طور پر اپنی پوزیشن مضبوط کر رہا ہے۔




