اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو نے ایک بار پھر ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کو قتل کرنے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے جنگ میں شدت نہیں بلکہ ہمیشہ کے لیے خاتمہ ہو جائے گا۔ انہوں نے یہ متنازع بیان امریکی نشریاتی ادارے "اے بی سی نیوز” کو انٹرویو کے دوران دیا۔
نیتن یاہو نے کہا کہ ایران ہمیں ایٹمی جنگ کے دہانے پر لے آیا ہے اور اسرائیل صرف اپنی سلامتی کا دفاع کر رہا ہے۔ انہوں نے اس امکان کو رد کرنے سے انکار کر دیا کہ اسرائیل خامنہ ای کو نشانہ نہیں بنائے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ اسرائیل پہلے بھی ایران کے ایٹمی سائنسدانوں کو نشانہ بنا چکا ہے اور اب ایران کو جوہری طاقت بننے سے روکنے کے لیے وہ ہر ضروری اقدام کرے گا۔ نیتن یاہو نے مزید کہا کہ "ہم وہی کریں گے جو ہمارے لیے ضروری ہے، چاہے کوئی اس کی مخالفت کرے یا نہیں۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت پر آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی خامنہ ای کو قتل کرنے کے منصوبے کو مسترد کر چکے ہیں۔ اسرائیل اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی نے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کو مزید خطرناک بنا دیا ہے۔




