اسلام آباد:سپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے قیام کے بعد پاکستان نے گزشتہ دو سالوں میں صنعتی ترقی، سیاحت کے فروغ اور نجکاری کے میدان میں نمایاں پیش رفت کی ہے۔ کونسل کی فعال حکمت عملی اور فیصلہ سازی کے فوری عمل سے ملکی معیشت میں مثبت تبدیلیاں دیکھی جا رہی ہیں۔
🔧 صنعتی ترقی کی جانب اہم پیش قدمی
SIFC کی معاونت سے پاکستان میں ریفریجریٹڈ لاجسٹکس کے شعبے میں اہم قدم اٹھایا گیا ہے، جس کے تحت این ایل سی نے ریفر سروس کا اجراء کیا ہے۔ اس پیش رفت سے کولڈ چین نظام کو تقویت ملی ہے، جس سے زرعی، طبی اور خوراک کی برآمدات کو فروغ حاصل ہوا ہے۔
اسی طرح پاکستان میں پہلی بار سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کی بنیاد رکھی گئی ہے، جو ملک کو عالمی ویلیو چین میں شامل کرنے کی جانب ایک سنگ میل ہے۔ اس کے علاوہ بی وائی ڈی اور دیگر بین الاقوامی اداروں کے اشتراک سے پاکستان میں الیکٹرک وہیکلز کی تیاری اور استعمال کے منصوبے شروع کیے جا چکے ہیں۔
ٹیکسٹائل صنعت کی بحالی کے لیے بھی SIFC نے موثر اقدامات کیے، جن میں توانائی کی کراس سبسڈی میں کمی اور LSM انڈیکس میں بہتری شامل ہے۔ اس سے ٹیکسٹائل برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان نے امریکہ اور PEL کے ساتھ صنعتی برآمدات کے فروغ کے لیے شراکت داری کی، جبکہ یاماہا، سیمنٹ پلانٹس اور توانائی کے کئی منصوبے SIFC کی فوری منظوری کے بعد فعال ہو چکے ہیں۔
مالی سال کے دوران پاکستان نے 1.6 ارب ڈالر کی براہ راست غیر ملکی سرمایہ کاری حاصل کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 41 فیصد زیادہ ہے۔ خصوصی اقتصادی زونز (SEZs) کے قیام سے 2028 تک 5 لاکھ روزگار کے مواقع پیدا ہونے کا امکان ہے۔
🏞️ سیاحت کے شعبے میں نئی جہتیں
سیاحت کے فروغ کے لیے بھی SIFC نے کئی اقدامات کیے ہیں، جن میں ٹھنڈیانی، گانول اور سندھ میں تھیمڈ سیاحتی زونز کا قیام شامل ہے۔ گلگت بلتستان میں 44 گیسٹ ہاؤسز کی بحالی کے بعد 4,000 سے زائد مقامی افراد کو روزگار فراہم کیا گیا۔
سیاحوں کی سہولت کے لیے ایک موبائل ایپ بھی متعارف کرائی گئی ہے، جس کے ذریعے مقامی گائیڈز اور دیگر سہولیات تک رسائی آسان ہو گئی ہے۔ پاکستان نے 126 ممالک کے لیے ویزا آن آرائیول اور جی سی سی ممالک کے لیے ویزا فری انٹری کا اعلان کیا ہے، جس سے غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ ہوا ہے۔
عالمی سیاحتی نمائش ITB برلن 2025 میں شرکت کے لیے بھی تیاری مکمل کر لی گئی ہے، جس سے پاکستان کی عالمی سطح پر سیاحتی پہچان کو تقویت ملے گی۔
💼 نجکاری اور توانائی کے شعبے میں اصلاحات
حکومتی اصلاحات کے تحت PIA اور ڈسکوز کی نجکاری کا عمل تیز کیا گیا ہے، جس کے لیے SIFC نے شفاف اور تیز ترین منظوری کے نظام کو متعارف کرایا ہے۔ ڈسکوز کی نجکاری کے لیے ون ونڈو اپروول سسٹم اور بین الوزارتی ورکنگ گروپ قائم کیا گیا ہے۔
ایس آئی ایف سی کو ٹرانزیکشن ایڈوائزر مقرر کیا گیا ہے، تاکہ نجکاری کے عمل کو شفاف، منظم اور جلد مکمل کیا جا سکے۔ وزیر اعظم کی جانب سے غیر اسٹریٹجک اداروں کی نجکاری، اعلیٰ سطحی نگرانی اور واضح پالیسی کا اعلان بھی کیا گیا ہے۔
ڈسکوز میں عالمی معیار کے مطابق اصلاحات کے لیے کابینہ کمیٹی قائم کی گئی ہے، جبکہ دوست ممالک کے ساتھ توانائی معاہدے بھی SIFC کی ایپکس کمیٹی کے ذریعے منظور کیے جا چکے ہیں۔




