سیالکوٹ : وزیر دفاع خواجہ آصف نے کہا ہے کہ سابق آئی ایس آئی سربراہ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف مزید قانونی کارروائی کی جائے گی، جو بانی تحریک انصاف کو اقتدار میں لانے اور نواز شریف کو ہٹانے کے منصوبے میں کلیدی کردار ادا کر چکے ہیں۔
سیالکوٹ میں نیوز کانفرنس کے دوران خواجہ آصف نے بتایا کہ فیض حمید کو پہلے ہی 15 ماہ کی کارروائی کے بعد سزا دی جا چکی ہے اور اب دیگر الزامات پر بھی قانونی عمل شروع کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ جنرل فیض اب جنرل نہیں رہے اور ان سے جنرل کا ٹائٹل بھی واپس لے لیا گیا ہے۔
وزیر دفاع نے الزام لگایا کہ بانی پی ٹی آئی اور فیض حمید نے ملک کے ساتھ کھلواڑ کیا، مخالفین کو جیل میں ڈالا، دھمکیاں دیں اور اپنے دور میں سیاسی طاقت کا ناجائز استعمال کیا۔ انہوں نے کہا کہ 9 مئی کے واقعات کے پیچھے بھی فیض حمید اور پی ٹی آئی کارکنان کی سوچ تھی۔
خواجہ آصف نے مزید کہا کہ اگر سازشی عناصر کامیاب ہو جاتے تو ملک اندر سے نقصان اٹھا سکتا تھا، لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی قیادت میں فوج نے ملک کو محفوظ بنایا اور پاکستان کی بین الاقوامی سطح پر عزت قائم رکھی۔
انہوں نے پی ٹی آئی پر طالبان سے مذاکرات کرنے اور انہیں پاکستان میں بسانے کا الزام بھی لگایا۔ وزیر دفاع کا کہنا تھا کہ موجودہ حکومت اور فوجی قیادت نے ملک کو مشکل حالات سے نکالنے میں اہم کردار ادا کیا اور سازشی عناصر کی کوششیں ناکام بنائیں۔




