سستا ترین سمجھا جانے والا مرغی کا گوشت بھی اب تو عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے۔ حکومتی ٹیکس بڑھ کر 14 فیصد ہوئے تو پولٹری انڈسٹری سے وابستہ افراد نے مرغی کی مزید قیمتوں میں اضافے کا عندیہ دیدیا۔
پولٹری فارم ایسوسی ایشن کے مطابق چالیس گرام کے چوزے کی قیمت 90 سے بڑھ کر 200 روہے تک پہنچ چکی ہے جبکہ فیڈ کا پچاس کلوگرام کا بیگ 6200 روپے تک پہنچ چکا ہے۔ چیئرمین برائلر فارمرز ایسوسی ایشن نوید انعام کا کہنا ہے کہ دو ہی چیزوں سے مرغی تیار ہوتی ہے ایک چوزہ اور دوسری فیڈ۔ دونوں کے ریٹ بڑھ چکے ہیں۔
پولٹری ایسوسی ایشن کے مطابق ملک بھر میں یومیہ تقریباً نوے لاکھ کلوگرام مرغی تیار کی جاتی ہے، جب کہ لاہور میں روزانہ بارہ سے چودہ لاکھ کلوگرام مرغی کی طلب پائی جاتی ہے۔ تاہم ناقص حکومتی پالیسیوں کے باعث اس شعبے میں پیداوار میں کمی دیکھی جا رہی ہے۔
صدر پولٹری ایسوسی ایشن طارق جاوید کا کہنا ہے کہ مرغی پر اگر ٹیکس لگتا جائے گا تو اس کی پیداوار متاثر ہوگی۔ جو سستا پروٹین کا ذریعہ تھا، اب مہنگا ہوگیا ہے
پولٹری کی صنعت سے وابستہ افراد نے حکومت کی جانب سے فی کلوگرام زندہ مرغی کی قیمت تین سو تراسی روہے پر لگنے والے کیپ کی بھی شدید مخالفت کی
0 18 1 minute read




