بین الاقوامی

بھارت-اسرائیل دفاعی اتحاد، مسلم دنیا کے لیے نیا سیکیورٹی چیلنج؟

 

اسلام آباد:بھارت اور اسرائیل کے درمیان دفاعی تعاون میں مسلسل اضافہ خطے میں امن و استحکام کے لیے سنجیدہ خطرہ بنتا جا رہا ہے۔

بین الاقوامی تحقیقی ادارے اسٹاک ہوم انٹرنیشنل پیس ریسرچ انسٹی ٹیوٹ (SIPRI) کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھارت نے گزشتہ ایک دہائی میں 37 ارب ڈالر کا اسلحہ درآمد کیا، جس میں ایک بڑا حصہ اسرائیلی ساختہ ہتھیاروں پر مشتمل ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ بھارت، اسرائیلی اسلحے کا سب سے بڑا عالمی خریدار ہے۔

بھارتی اخبار ٹائمز آف انڈیا کے مطابق، گزشتہ برسوں کے دوران بھارت نے اسرائیل سے 2.9 بلین ڈالر کے دفاعی معاہدے کیے، جب کہ "میک ان انڈیا” منصوبے کے تحت دونوں ممالک نے مشترکہ طور پر اسلحہ سازی کی صنعت میں تعاون بڑھا دیا ہے۔ ٹائمز آف اسرائیل کے مطابق، یہ اشتراک صرف خریدو فروخت تک محدود نہیں بلکہ اس میں دفاعی تحقیق، ڈرون ٹیکنالوجی، سائبر سیکیورٹی اور انٹیلی جنس نظام بھی شامل ہیں۔

دوسری جانب، بھارتی جریدے دکن ہیرالڈ نے انکشاف کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں بھارتی افواج اسرائیلی ساختہ اسلحہ اور نگرانی کے آلات استعمال کر رہی ہیں، جو انسانی حقوق کی پامالیوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔ اسی طرز کی فوجی ٹیکنالوجی اسرائیلی افواج کی جانب سے غزہ میں بھی استعمال کی جا رہی ہے، جس سے دونوں علاقوں کی صورتحال میں مماثلت واضح ہوتی ہے۔

انڈیا ٹوڈے نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ بھارت اور اسرائیل کو مسلم دنیا سے "مشترکہ خطرات” درپیش ہیں، جس کے تحت دونوں ممالک دفاعی اتحاد کو مزید مضبوط کر رہے ہیں۔ مبصرین اس بیان کو مسلم دنیا کے خلاف ممکنہ مشترکہ پالیسیوں کا اشارہ قرار دے رہے ہیں۔

تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ یہ دفاعی گٹھ جوڑ صرف عسکری سطح پر نہیں بلکہ ایک مخصوص نظریاتی ہم آہنگی کا بھی عکاس ہے۔ صہیونیت اور ہندوتوا جیسی تحریکیں مذہبی تعصب اور اسلاموفوبیا پر مبنی سوچ کی نمائندگی کرتی ہیں، جو مسلمان اقلیتوں اور ریاستوں کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہیں۔

ماضی کی مثالیں بھی اس تعلق کی گہرائی کو ظاہر کرتی ہیں۔ آبزرور ریسرچ فاؤنڈیشن کے مطابق، اسرائیل نے 1965 اور 1971 کی جنگوں کے دوران بھی بھارت کو اسلحہ فراہم کیا تھا۔ اب دونوں ممالک کے درمیان ایک بڑا تجارتی و دفاعی معاہدہ زیر غور ہے، جس کے تحت بھارت کو مزید جدید میزائل، ڈرون، نگرانی کے نظام اور سائبر وارفیئر ٹیکنالوجی فراہم کی جائے گی۔

دفاعی ماہرین خبردار کرتے ہیں کہ اگر عالمی برادری نے بھارت اور اسرائیل کے اس بڑھتے عسکری اتحاد پر سنجیدہ توجہ نہ دی تو جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں عدم استحکام مزید بڑھ سکتا ہے۔ کشمیر سے لے کر غزہ تک، جبر و تشدد کی یکساں پالیسیوں نے اس خدشے کو تقویت دی ہے کہ یہ دفاعی اتحاد خطے کو کسی بڑی جنگ کی طرف دھکیل سکتا ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button