مظفرآباد: آزاد کشمیر میں معذور نوجوانوں کے لیے ترقی اور خودمختاری کا ایک نیا دروازہ کھل گیا۔ سپیشل کمیونی کیشنز آرگنائزیشن (SCO) نے جنوری 2025 میں آزاد کشمیر کے معذور افراد کے لیے پہلا فری لانسنگ ہب قائم کر کے ایک انقلابی قدم اٹھایا ہے۔
یہ جدید تربیتی مرکز صرف ایک کمپیوٹر لیب نہیں، بلکہ ان نوجوانوں کے لیے ایک نئی دنیا کا دروازہ ہے جو برسوں سے معاشرے کے حاشیے پر زندگی گزارنے پر مجبور تھے۔
مریم عبداللہ – خوابوں کو حقیقت میں بدلتی کہانی
مظفرآباد کی رہائشی مریم عبداللہ اس انقلاب کی ایک زندہ مثال ہیں۔ پیدائشی طور پر جسمانی معذوری کا شکار، قد چھوٹا اور انگلیاں ٹیڑھی، مگر حوصلہ بلند۔ مریم نے فری لانسنگ ہب سے کمپیوٹر کی بنیادی تربیت حاصل کی اور اب مصنوعی ذہانت جیسے جدید شعبے میں مہارت حاصل کر رہی ہیں۔
مریم کہتی ہیں:
"ہم جیسے بچوں کو ہمیشہ ترس کی نگاہ سے دیکھا گیا، کبھی موقع نہیں ملا۔ لیکن ایس سی او نے نہ صرف سہولت دی بلکہ ہمیں مان دیا۔”
مریم کے مطابق، SCO نے انہیں نہ صرف مفت انٹرنیٹ، جدید کمپیوٹرز اور 24 گھنٹے بجلی کی سہولت فراہم کی، بلکہ ایک خصوصی گاڑی کے ذریعے ان کا تعلیمی ادارے تک پہنچنا بھی ممکن بنایا۔
"یہ گاڑی میرے لیے صرف ایک سواری نہیں، بلکہ میری امیدوں کی رفتار ہے،” مریم نے جذباتی انداز میں کہا۔
علم، ہنر اور خود اعتمادی کا سنگم
SCO کا یہ فری لانسنگ ہب معذور نوجوانوں کے لیے صرف تکنیکی تربیت کا ذریعہ نہیں بلکہ اعتماد، عزت اور خود مختاری کی عملی مثال ہے۔ یہاں نوجوان صرف کمپیوٹر نہیں سیکھ رہے، بلکہ وہ خواب دیکھنا اور اُن کی تعبیر پانا بھی سیکھ رہے ہیں۔
نئی نسل کے لیے نئی راہیں
ایس سی او کا کہنا ہے کہ اس منصوبے کا مقصد معذور نوجوانوں کو ڈیجیٹل معیشت سے جوڑ کر انہیں باعزت روزگار کے مواقع دینا ہے۔ مریم جیسے درجنوں نوجوان اب نہ صرف اپنے پیروں پر کھڑے ہو رہے ہیں بلکہ دوسرے معذور بچوں کے لیے بھی مشعلِ راہ بن چکے ہیں۔
یہ اقدام ایک واضح پیغام ہے کہ اگر مواقع، سہولتیں اور رہنمائی فراہم کی جائے تو معذوری ترقی کی راہ میں رکاوٹ نہیں بن سکتی۔




