یہ مقابلہ چودہ منٹ تک جاری رہا، جس دوران گولڈ برگ نے اپنے مشہور داؤ "اسپیئر” اور "جیک ہیمر” سے بھرپور وار کیے۔ تاہم، گنٹھر کی مؤثر حکمت عملی اور مضبوط کنٹرول نے بازی پلٹ دی۔ اختتامی مرحلے میں گنٹھر نے اپنا معروف "سلیپر سبمیشن” داؤ لگایا، جس کے بعد گولڈ برگ کو شکست تسلیم کرنا پڑی۔ یہ میچ نہ صرف ان کے کیریئر کا اختتامی باب ثابت ہوا، بلکہ ریسلنگ کی تاریخ میں ایک یادگار دور کے خاتمے کی نمائندگی بھی کرتا ہے۔
میچ کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے، جب گولڈ برگ کے اہلخانہ، دوست اور کئی سابق ریسلرز رنگ میں آئے اور ان کو بھرپور خراج تحسین پیش کیا۔ ایرینا میں موجود ہزاروں شائقین نے کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں اور "گولڈ برگ! گولڈ برگ!” کے فلک شگاف نعرے لگائے۔
گولڈ برگ نے اپنے مختصر مگر جذباتی خطاب میں کہا:
"میں نے ہر لمحے کو پوری جان سے جیا، ہر چیلنج کو قبول کیا، اور آپ سب کے بغیر یہ ممکن نہ تھا۔ یہ میرا آخری میچ ہے، مگر میری کہانی ہمیشہ آپ کے دلوں میں زندہ رہے گی۔”
بل گولڈ برگ کا کیریئر 1990 کی دہائی میں ورلڈ چیمپیئن شپ ریسلنگ سے شروع ہوا، جہاں وہ اپنی 173 میچوں کی ناقابل شکست اسٹریک کے باعث شہرت کی بلندیوں پر پہنچے۔ ڈبلیو ڈبلیو ای میں شمولیت کے بعد انہوں نے ورلڈ ہیوی ویٹ اور یونیورسل چیمپیئن شپ سمیت متعدد اعزازات اپنے نام کیے، اور اپنے جارحانہ انداز اور مشہور داؤ "اسپیئر” سے مداحوں کے دل جیتے۔
ان کے ریٹائرمنٹ کے اعلان پر سوشل میڈیا پر بھی زبردست ردعمل دیکھنے میں آیا، جہاں #ThankYouGoldberg ٹرینڈ کرتا رہا۔ مشہور ریسلرز جیسے جان سینا، دی راک اور ٹرپل ایچ نے بھی گولڈ برگ کے کیریئر کو "یادگار” اور "عظیم” قرار دیا۔




