پاکستان

سیلاب کا خدشہ یا تحریک انصاف کے سونامی سے خطرہ؟ پنجاب میں دفعہ 144 نافذ !

پنجاب میں بارش اور سیلاب سے نمٹنے کا پنجاب حکومت کا فارمولا۔ پنجاب حکومت نے صوبے میں دفعہ 144 نافذ کر دی۔ محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے باقاعدہ نوٹیفکیشن جاری کر دیا گیا۔ نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلے کا مقصد شہریوں کی جانوں کا تحفظ اور کسی بھی ممکنہ حادثے سے بچاؤ کو یقینی بنانا ہے۔
نوٹیفکیشن کے مطابق پابندیاں فوری طور پر نافذ العمل ہیں اور ان کا اطلاق 30 اگست 2025 تک جاری رہے گا۔

کن سرگرمیوں پر پابندی عائد کی گئی ہے؟
ڈیموں، دریاؤں، نہروں، جھیلوں، تالابوں اور دیگر قدرتی یا مصنوعی آبی ذخائر میں تیراکی پر مکمل پابندی
گلیوں، سڑکوں یا عوامی مقامات پر جمع شدہ بارشی پانی میں نہانے کی اجازت نہیں
کسی بھی آبی ذخیرے میں کشتی رانی (بوٹنگ) صرف پیشگی اجازت سے ممکن ہوگی

محکمہ داخلہ کے ترجمان کا کہنا ہے کہ پابندیاں عوامی تحفظ کے لیے لگائی گئی ہیں، کیونکہ حالیہ بارشوں سے پانی کی سطح غیرمعمولی حد تک بلند ہو چکی ہے اور کئی مقامات پر تیز بہاؤ اور طغیانی سے حادثات کا خطرہ بڑھ گیا ہے



کیا دفعہ 144 سیلاب کی آڑ میں تحریک انصاف کے سونامی سے نمٹنے کا فارمولہ ہے؟
پی ٹی آئینے 5 اگست 2025 سے ملک گیر احتجاجی تحریک کے آغاز کا اعلان کر دیا ہے۔ یہ اعلان سابق وزیر اعظم عمران خان کے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر ایک تفصیلی پیغام کے ذریعے سامنے آیا، جس میں انہوں نے واضح کیا کہ اب نہ مذاکرات ہوں گے اور نہ کوئی پیچھے ہٹے گا، صرف احتجاج ہوگا۔
عمران خان نے اپنے پیغام میں لکھا:
پانچ اگست کو میری بلاجواز قید کو دو برس مکمل ہوں گے، اور اسی دن ہماری ملک گیر احتجاجی تحریک اپنے عروج پر پہنچے گی۔

محکمہ داخلہ پنجاب کی جانب سے پنجاب بھر میں نافذ کردہ دفعہ 144 کےباعث تحریک انصاف کو اجتماع کے انعقاد کی پابندی کا بھی سامنا ہو گا۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پنجاب حکومت سیلاب کی آڑ میں دفعہ ایک سو چوالیس کو تحریک انصاف کے سونامی سے نمٹنے کیلئے بھی استعمال کرے گی

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button