پشاور: خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات کی سیاسی گرما گرمی عروج پر پہنچ گئی ہے، اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ طور پر 21 جولائی کو ہونے والے انتخابات میں کسی بھی امیدوار کو دستبردار نہ کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
یہ فیصلہ گورنر ہاؤس پشاور میں منعقدہ اہم اجلاس میں کیا گیا، جس کی صدارت گورنر خیبرپختونخوا فیصل کریم کنڈی نے کی۔ اجلاس میں جمعیت علمائے اسلام (ف) کے مرکزی رہنما سینیٹر مولانا عطا الرحمٰن، اپوزیشن لیڈر ڈاکٹر عباد، پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر احمد کنڈی سمیت دیگر اپوزیشن جماعتوں کے نمائندگان اور امیدوار شریک ہوئے۔
اجلاس کے دوران سینیٹ انتخابات سے متعلق حکمت عملی، حکومت کے ساتھ مذاکرات اور سیاسی صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ اپوزیشن رہنماؤں نے واضح کیا کہ وہ انتخابی عمل سے پیچھے نہیں ہٹیں گے اور تمام امیدوار میدان میں موجود رہیں گے۔
اجلاس میں حکومت کی جانب سے دیے گئے 5 اور 6 کے فارمولے پر بھی مشاورت کی گئی، اور اپوزیشن نے فیصلہ کیا کہ وہ اس فارمولے پر عمل درآمد کرتے ہوئے بھی انتخابی عمل کا حصہ بنے گی۔
ادھر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت نے اپنے ناراض امیدواروں کو منانے کے بعد کاغذات نامزدگی واپس لینے پر قائل کر لیا ہے، جس کے بعد مقابلہ مزید دلچسپ اور پیچیدہ ہو گیا ہے۔
خیبرپختونخوا میں سینیٹ انتخابات سے قبل سیاسی صف بندی تیز ہو چکی ہے اور سیاسی جماعتوں کی حکمت عملیاں واضح ہوتی جا رہی ہیں۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ اپوزیشن کا اتحاد کیا حکومتی حکمت عملی کو چیلنج کر پائے گا یا نہیں۔




