تہران، استنبول: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے بادلوں کے درمیان استنبول ایک بار پھر عالمی سیاست کا مرکز بننے جا رہا ہے۔ جمعہ کو ہونے والے جوہری مذاکرات محض دو ممالک کی بیٹھک نہیں بلکہ ایک کثیر الجہتی علاقائی کوشش ہے جس میں پاکستان کو بھی کلیدی اہمیت دی گئی ہے۔
خبر رساں ادارے ‘رائٹرز’ کے مطابق، استنبول مذاکرات کا اولین مقصد خطے کو ایک ایسی تباہ کن جنگ سے بچانا ہے جس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔ ان مذاکرات کی خاص بات پاکستان، سعودی عرب، یو اے ای، قطر اور مصر جیسے اہم اسلامی ممالک کی شرکت ہے، جو اس بات کی علامت ہے کہ امریکہ اور ایران دونوں اب علاقائی ضامنوں (Regional Guarantors) کی موجودگی میں بات چیت چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے روایتی انداز میں واضح کیا کہ وہ صرف بات چیت پر یقین نہیں رکھتے بلکہ طاقت کا توازن بھی برقرار رکھنا جانتے ہیں۔ انہوں نے ایک طرف اسٹیو وٹکوف کو ایرانی وزیر خارجہ سے ملاقات کے لیے بھیجا تو دوسری طرف ایران کی جانب ایک تاریخی بحری بیڑہ روانہ کر کے یہ پیغام دیا کہ ڈیل کی صورت میں: خطے میں استحکام اور اقتصادی بہتری آئے گی۔ ناکامی کی صورت میں ایران کو "انتہائی سنگین” فوجی اور سیاسی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
صدر ٹرمپ صرف ایران ہی نہیں بلکہ یوکرین اور روس کے درمیان بھی جنگ بندی (Ceasefire) کے لیے پرامید ہیں، جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ وہ 2026 کے آغاز میں بڑے عالمی تنازعات کو حل کرنے کے مشن پر ہیں۔ دوسری جانب، ایپسٹین اسکینڈل جیسے الزامات کو مسترد کر کے انہوں نے اپنی تمام تر توجہ عالمی ڈپلومیسی پر مرکوز کرنے کا اشارہ دیا ہے۔




