پاکستانٹیکنالوجی

وزیراعظم نے نیٹ میٹرنگ پالیسی پر نظرثانی کا عمل ایک بار پھر روک دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے حکومت کی سولر نیٹ میٹرنگ پالیسی پر مجوزہ نظرثانی کا عمل ایک بار پھر روک دیا ہے۔ یہ تیسری مرتبہ ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے بائی بیک ریٹ میں کمی کی تجویز کو عملی شکل دینے سے قبل ہی واپس لے لیا گیا ہے۔
پاور ڈویژن کے ایک سینیئر اہلکار کے مطابق وزیراعظم ہاؤس سے ہدایت ملی ہے کہ نیٹ میٹرنگ سے متعلق مہم روک دی جائے۔ حکام کے مطابق وزارت اطلاعات کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اس حوالے سے ایک بیانیہ تیار کرے، جس کے بعد وفاقی کابینہ کو باقاعدہ سمری پیش کی جائے گی۔
وزارت توانائی نے ایک سمری کے ذریعے نیٹ میٹرنگ صارفین کے لیے فی یونٹ بائی بیک ریٹ کو موجودہ 27 روپے سے کم کر کے تقریباً 11.3 روپے کرنے کی سفارش کی تھی۔ یہ قیمت آئی پی پیز کے اوسط ٹیرف کی بنیاد پر طے کی گئی تھی۔ تاہم، ذرائع کے مطابق، وفاقی کابینہ کو یہ تجویز بھیجیے جانے سے قبل ہی روک دیا گیا۔
ملک میں بجلی کے بلند نرخوں نے بڑی تعداد میں صارفین کو نیٹ میٹرنگ کی طرف متوجہ کیا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ملک میں اس وقت تقریباً 3 لاکھ 25 ہزار نیٹ میٹرنگ کنکشن موجود ہیں جن کی مجموعی صلاحیت 6,500 میگاواٹ کے لگ بھگ ہے۔
پاور ڈویژن کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ کے تحت گرڈ کو دی جانے والی بجلی کی قیمت، جو اس وقت 27 روپے فی یونٹ ہے، پاور سیکٹر کے لیے مالی طور پر بوجھ بن رہی ہے۔ اگرچہ متعدد ڈسٹری بیوشن کمپنیاں اس قیمت پر مکمل ادائیگی نہیں کرتیں، تاہم وزارت کا کہنا ہے کہ یہ پالیسی قومی گرڈ کے استحکام پر بھی اثر انداز ہو رہی ہے۔
وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے 10 جولائی کو کہا تھا کہ حکومت ایک نظرثانی شدہ تجویز پر کام کر رہی ہے تاکہ نیٹ میٹرنگ میں سرمایہ کاری کی واپسی کی مدت کو موجودہ ڈیڑھ سال سے بڑھا کر دو سے تین سال تک کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ اضافی بجلی کی فروخت پر پابندی سے گرڈ کے استحکام میں مدد ملے گی۔
قبل ازیں، اقتصادی رابطہ کمیٹی کی منظوری کے باوجود جب کابینہ کے سامنے یہی تجویز رکھی گئی تو اسے سول سوسائٹی اور سولر صارفین کی جانب سے تنقید کے بعد مسترد کر دیا گیا تھا۔ صارفین کا مؤقف ہے کہ نیٹ میٹرنگ متوسط طبقے اور چھوٹے کاروباروں کے لیے بجلی کے بڑھتے بلوں سے بچاؤ کا واحد ذریعہ ہے۔
وزارت توانائی کے مطابق سب سے زیادہ نیٹ میٹرنگ کنکشن لاہور میں ہیں، جو ملک بھر کے کل کنکشنز کا ایک چوتھائی ہیں۔ اس کے بعد راولپنڈی، کراچی، اسلام آباد، ملتان، فیصل آباد اور دیگر شہر آتے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button