خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور اور اسپیکر صوبائی اسمبلی نے مخصوص نشستوں پر منتخب اراکین کی گورنر ہاؤس میں حلف برداری کو آئینی بنیادوں پر چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ایڈووکیٹ جنرل شاہ فیصل اتمان خیل کا کہنا ہے کہ آئین کے آرٹیکل 65 کے مطابق منتخب اراکین کو حلف صرف صوبائی اسمبلی کے ایوان میں لینا چاہیے، اس لیے گورنر ہاؤس میں لیا گیا حلف آئینی دائرہ کار سے باہر تصور کیا جا سکتا ہے۔
انھوں نے کہا کہ اسپیکر نے اراکین کی حلف برداری سے انکار نہیں کیا بلکہ قانونی تقاضا پورا کرتے ہوئے اجلاس کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے ملتوی کیا گیا۔ ان کے مطابق 24 جولائی کو دوبارہ اجلاس بلایا گیا ہے، اور اس دوران کسی متبادل مقام پر حلف لینا مناسب نہیں۔
ایڈووکیٹ جنرل کے مطابق وزیراعلیٰ کی جانب سے اس اقدام کے خلاف پشاور ہائی کورٹ میں آئینی درخواست دائر کی جائے گی۔ ان کا کہنا تھا کہ رٹ پٹیشن تیار ہے لیکن عدالتی تعطیل کے باعث آج دائر نہیں ہو سکی، تاہم کل عدالت سے رجوع کیا جائے گا۔
ادھر اسپیکر صوبائی اسمبلی کی جانب سے بھی اسی نوعیت کی پٹیشن دائر کرنے کی تیاریاں مکمل کر لی گئی ہیں۔ اسمبلی ذرائع کے مطابق اسپیکر بھی گورنر ہاؤس میں حلف برداری کو آئینی دائرہ کار سے باہر قرار دیتے ہوئے عدالتی کارروائی کا ارادہ رکھتے ہیں۔
وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ مخصوص نشستوں پر گورنر ہاؤس میں ہونے والی حلف برداری آئین کی خلاف ورزی ہے اور اس عمل کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔ ان کے بقول، "ہم نے اپنی آئینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے آج اجلاس بلایا تھا اور اسپیکر نے کبھی حلف لینے سے انکار نہیں کیا۔”
خیال رہے کہ حالیہ دنوں میں مخصوص نشستوں پر منتخب ارکان کی حلف برداری میں تاخیر کے باعث صوبے میں سیاسی کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے، اور اس حوالے سے حکومت اور گورنر کے درمیان آئینی دائرہ کار پر اختلافات سامنے آ رہے ہیں۔
0 22 1 minute read




