نریندر مودی کا برطانیہ کا مجوزہ دورہ مؤخر ہونے کے امکانات، بھارت کے لیے ایک اور سفارتی چیلنج بن کر سامنے آ رہے ہیں۔ یہ دورہ بھارت اور برطانیہ کے درمیان ایک طویل عرصے سے زیر بحث آزاد تجارتی معاہدے پر دستخط کے لیے اہم سمجھا جا رہا تھا۔ تاہم، بھارتی وزارت خارجہ کے ذرائع کے مطابق، معاہدے کی تیاری میں تکنیکی اور قانونی پیچیدگیاں ابھی تک حل نہیں ہو سکیں، جس کی وجہ سے مودی کے دورے کو حتمی شکل دینا ممکن نہیں ہو سکا۔
اس صورتحال نے بھارتی سفارتی کوششوں پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس وقت جب بھارت اپنی عالمی ساکھ کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ معاہدے کو مئی 2025 میں حتمی شکل دی گئی تھی، اور اسے دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے کے لیے ایک تاریخی سنگ میل قرار دیا گیا تھا۔
معاہدے کے تحت بھارت کے 99 فیصد برآمدات پر محصولات ختم کیے جانے کی توقع تھی، جبکہ برطانیہ کے لیے بھارتی منڈیوں تک رسائی آسان بنائی جانی تھی۔ اس کے علاوہ، معاہدے میں ایک ڈبل کنٹری بیوشن کنونشن بھی شامل تھا، جس کے تحت بھارت کے پیشہ ور افراد کو برطانیہ میں تین سال تک سوشل سیکیورٹی ادائیگیوں سے استثنیٰ ملنا تھا۔
بھارتی وزارت خارجہ کے حکام کے مطابق، آزاد تجارتی معاہدے کی قانونی دستاویزات کی تیاری ابھی مکمل نہیں ہوئی۔ اس عمل میں تکنیکی پیچیدگیاں، جیسے کہ ٹیرف شیڈولز، خدمات کے شعبے میں رسائی، اور کاربن بارڈر ایڈجسٹمنٹ میکانزم جیسے مسائل شامل ہیں، جن پر دونوں فریقوں کے درمیان اتفاق رائے ضروری ہے۔
مزید برآں، برطانیہ کی جانب سے اپنی داخلی پالیسیوں، خاص طور پر امیگریشن اور ویزا پالیسیوں پر سخت موقف نے بھی مذاکرات کو پیچیدہ کیا ہے۔
ماضی میں بھی، 2022 میں برطانوی ہوم سیکریٹری سوئیلا بریورمین کے بھارتی تارکین وطن سے متعلق متنازع بیانات نے دوطرفہ مذاکرات کو متاثر کیا اور سیاسی فضا کشیدہ بنا دی تھی۔ امیگریشن پالیسیوں پر پائے جانے والے اختلافات آج بھی تعلقات میں ایک بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔
0 9 1 minute read




