نئی دہلی : بھارت کے شورش زدہ علاقے چھتیس گڑھ میں سیکورٹی فورسز کے اہلکار شدید ذہنی دباؤ اور نفسیاتی مسائل کا شکار ہیں، جس کے باعث 2019 سے جون 2025 تک 177 اہلکاروں نے اپنی زندگی کا خاتمہ کر لیا ہے۔ یہ انکشافات چھتیس گڑھ کے نائب وزیراعلیٰ اور وزیر داخلہ وجے شرما نے صوبائی اسمبلی میں بی جے پی کے رکن اسمبلی اجے چندرکار کے سوال کے جواب میں کیے۔
چھتیس گڑھ میں 2019 سے جون 2025 تک خودکشی کرنے والے 177 سیکورٹی اہلکاروں میں سینٹرل ریزروڈ پولیس فورس کے 26، بارڈر سیکورٹی فورس کے 5، انڈو تبتن بارڈر پولیس کے 3 اور دیگر دستوں کے اہلکار شامل ہیں۔
اسی عرصے میں 18 اہلکار ذہنی دباؤ کے تحت ساتھیوں پر فائرنگ کر کے قتل کے واقعات میں ملوث پائے گئے، جو نہ صرف جرائم بلکہ سیکورٹی فورسز کی خراب نفسیاتی حالت کا مظہر ہیں۔
نکسل تحریک کے خلاف جاری کارروائیوں میں، ان فورسز نے 2005 سے اب تک ہزاروں قبائلیوں کو انسداد نکسل کارروائیوں کے نام پر ماورائے عدالت قتل، جبری بے دخلی اور جنسی تشدد کا نشانہ بنایا ہے۔
نفسیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ ان اہلکاروں کے لیے کوئی مؤثر ذہنی صحت کی سہولت یا کونسلنگ سسٹم موجود نہیں، اور مسلسل خطرناک مشن، ہائی ٹینشن والے علاقے، اور افسروں کا ناروا سلوک انہیں خودکشی یا پرتشدد رویوں کی طرف لے جاتا ہے۔
سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر بھارتی فورسز ہی اس قدر غیر مستحکم ہیں تو وہ کس طرح حساس علاقوں میں امن قائم رکھ سکتی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق، بھارتی فوج کے مورال پر یہ نفسیاتی دباؤ پاکستان کے خلاف معرکوں میں ان کی کارکردگی پر واضح اثر ڈال رہا ہے۔




