سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں ہلچل مچاتے ہوئے سابق امریکی صدر باراک اوباما پر قومی سلامتی کے خلاف مبینہ سازش میں ملوث ہونے کا الزام عائد کر دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ اوباما کے خلاف غداری کا مقدمہ قائم کیا جانا چاہیے۔
ٹرمپ نے یہ دعویٰ ایک پریس کانفرنس میں کیا، جہاں انہوں نے کہا کہ 2016 کے انتخابات میں روسی مداخلت سے متعلق انٹیلیجنس رپورٹ میں جان بوجھ کر تبدیلی کی گئی۔ انہوں نے اس ترمیم شدہ رپورٹ کو اپنی ساکھ کو نقصان پہنچانے کی کوشش قرار دیا اور کہا کہ یہ سب کچھ ڈیموکریٹس کی حکومت کے دوران اوباما اور ان کے مشیروں کی ایما پر ہوا۔
اس الزام کو تقویت اس وقت ملی جب نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر کی جانب سے محکمہ انصاف کو ایک فوجداری ریفرنس بھجوایا گیا، جس میں اس پورے مبینہ منصوبے میں اوباما کا ذکر کیا گیا۔
"جو کچھ میں نے پڑھا اور جو شواہد سامنے آئے، ان سے واضح ہے کہ اس کی شروعات اوباما نے ہی کی تھی۔”
یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب ٹرمپ کو اس بات پر بھی تنقید کا سامنا ہے کہ انہوں نے پیر کے روز مصنوعی ذہانت (AI) کی مدد سے تیار کردہ باراک اوباما کی جعلی گرفتاری کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی، جسے کئی حلقوں نے گمراہ کن اور غیر ذمہ دارانہ قرار دیا۔
امریکی سیاست میں روسی مداخلت اور اس کے اثرات سے متعلق بحث کئی برسوں سے جاری ہے۔ ڈونلڈ ٹرمپ بارہا ان الزامات کو "سیاسی شکار” قرار دیتے آئے ہیں، جب کہ ڈیموکریٹس اس بات پر زور دیتے ہیں کہ ٹرمپ کی انتخابی کامیابی میں بیرونی مداخلت نے اہم کردار ادا کیا۔
0 7 1 minute read




