انسانی حقوق کی دونوں تنظیمیں اسرائیل کی پہلی بڑی آواز ہیں جنہوں نے تقریباً 22 ماہ کی جنگ کے دوران ریاست کے خلاف ایسے الزامات عائد کیے ہیں۔
اسرائیل کی انسانی حقوق کی دو تنظیموں نے کہا ہے کہ انکا ملک غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف نسل کشی کر رہا ہے۔
اسرائیلی انسانی حقوق کی تنظیموں بیت سلم اور فزیشنز فار ہیومن رائٹس کا کہنا ہے کہ اسرائیل غزہ کی پٹی میں فلسطینی معاشرے کو منظم اور دانستہ طور پرختم کر رہا ہے
بیت سلم کی ڈائریکٹر یولی نوواک کا کہنا تھا کہ غزہ کے شہریوں کو نہ صرف ان کے گھروں سے بے دخل کیا گیا بلکہ شدید بمباری اور غذائی قلت کے ذریعے انہیں بنیادی انسانی حقوق اور وقار سے بھی محروم کر دیا گیا۔
حماس کے خلاف تقریباً 22 ماہ کی جنگ کے دوران یہ دونوں گروپ اسرائیلی معاشرے میں پہلی بڑی آوازیں ہیں جنہوں نے ریاست کے خلاف ایسے الزامات عائد کیے ہیں۔
اسرائیل نے نسل کشی کے دعووں کی سختی سے تردید کی ہے۔ حکومت کے ترجمان ڈیوڈ مینسر نے انسانی حقوق کی تنظیموں کے اس الزام کو بے بنیاد قرار دیا۔
0 18 1 minute read




