اسلام آباد:پبلک اکاؤنٹس کمیٹی (پی اے سی) نے ملک میں چینی کی قیمتوں میں اضافے اور ممکنہ ذخیرہ اندوزی پر سخت ایکشن لیتے ہوئے تمام شوگر ملز مالکان اور چینی برآمد کرنے والوں کا مکمل ریکارڈ فوری طور پر طلب کر لیا ہے۔
چیئرمین کمیٹی جنید اکبر کی زیر صدارت اجلاس میں بتایا گیا کہ چینی کی قیمت کراچی میں 210 اور ہری پور میں 215 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے۔ کمیٹی نے عوام کو پہنچنے والے 287 ارب روپے کے مبینہ نقصان پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
سیکرٹری صنعت و پیداوار نے بریفنگ میں بتایا کہ گزشتہ دس برسوں میں حکومت نے 5.09 ملین ٹن چینی برآمد کرنے کی اجازت دی، مگر 3.92 ملین ٹن ہی برآمد کی گئی، جس سے 40 کروڑ ڈالر زرمبادلہ حاصل ہوا۔
ارکان کمیٹی نے الزام عائد کیا کہ چینی کی برآمد اور درآمد کے فیصلے غیر شفاف انداز میں ہوتے رہے، جس سے مصنوعی بحران پیدا کیا گیا۔ کمیٹی نے سوال اٹھایا کہ سبسڈی اور ٹیکس چھوٹ کن بنیادوں پر دی گئی۔
کمیٹی نے حکومت سے شوگر ملز مالکان اور ان کے ڈائریکٹرز کی مکمل فہرست فوری فراہم کرنے کا حکم دیا، بصورت دیگر تحریکِ استحقاق لانے کی تنبیہ کی گئی۔




