اسلام آباد : پاکستان نے جدید جنگی تقاضوں کے مطابق اپنے سائبر دفاع کو نئی جہت دیتے ہوئے قومی سطح پر تھریٹ انٹیلی جنس کے تبادلے کا مربوط نظام کامیابی سے نافذ کر دیا ہے۔ اس انقلابی اقدام سے ملک کے دفاعی اور سویلین اداروں کے درمیان سائبر خطرات سے نمٹنے کے لیے ایک مشترکہ ڈھال تیار کر لی گئی ہے۔
حالیہ پیشرفت کے تحت نیشنل سرٹ (nCERT)، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) اور پاک فوج کے سائبر ڈویژن کے درمیان ایک طاقتور انفراسٹرکچر قائم کیا گیا ہے۔ یہ نظام اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اگر کسی ایک ادارے کو سائبر حملے کا سامنا ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر دیگر اداروں کو ریئل ٹائم میں منتقل ہو جائے، تاکہ بڑے پیمانے پر نقصان سے بچا جا سکے۔
پاکستان نے غیر ملکی ٹیکنالوجی پر انحصار ختم کرنے کے لیے اپنا مقامی مالویئر انفارمیشن شیئرنگ پلیٹ فارم تیار کیا ہے، جس کے دور رس نتائج برآمد ہوں گے۔
عالمی انٹیلی جنس فیڈز کے بجائے مقامی ڈیٹا بیس کے استعمال سے قومی سلامتی میں اضافہ ہوگا۔ تھریٹ ہنٹنگ کے ذریعے دشمن کے مالویئر اور جاسوسی کے آلات کو حملے سے پہلے ہی ناکارہ بنایا جا سکے گا۔ ریئل ٹائم ڈیٹیکشن کے ذریعے اہم سرکاری ویب سائٹس اور پاور گرڈز جیسے حساس نظاموں کا تحفظ ممکن ہوگا۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ مرکزی تھریٹ انٹیلی جنس نظام کا قیام پاکستان کی سائبر پالیسی کا ایک اہم ستون ہے۔ اس سے نہ صرف بیرونی سائبر حملوں کا پھیلاؤ محدود ہوگا بلکہ ملکی سطح پر سائبر سیکیورٹی کی صلاحیتوں میں بھی خود کفالت حاصل ہوگی۔ اداروں کے درمیان اس درجے کی مربوط رابطہ کاری پاکستان کو خطے کے ان چند ممالک کی صف میں لے آئی ہے جن کا اپنا خود مختار سائبر دفاعی نظام موجود ہے۔




