پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے پانچ اگست کو دیے گئے احتجاجی کال پر لاہور میں دن بھر پولیس اور کارکنوں کے درمیان آنکھ مچولی کا سلسلہ جاری رہا، جب کہ تنظیمی قیادت غیرفعال نظر آئی۔
شہر بھر میں جگہ جگہ ریلیاں نکالی گئیں، جن پر پولیس نے فوری ایکشن لیتے ہوئے 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا۔ پولیس ذرائع کے مطابق گرفتار افراد میں 70 فیصد سے زائد دوسرے شہروں سے آئے کارکنان تھے۔
احتجاجی سرگرمیوں کے دوران ڈپٹی اپوزیشن لیڈر معین الدین قریشی کو پائن ایونیو سے گرفتار کیا گیا، جب کہ اراکینِ اسمبلی میجر (ر) اقبال خٹک، فرخ جاوید مون، سردار ندیم صادق، امین اللہ خان، شعیب امیر اعوان اور خان صلاح الدین کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔
تحریک انصاف کے ڈپٹی جنرل سیکرٹری شوکت بسرا نے گلبرگ میں ریلی نکالی، جب کہ ٹکٹ ہولڈرز چوہدری اصغر گجر اور حافظ ذیشان رشید نے کینال روڈ پر مظاہرہ کیا۔ چیف آرگنائزر عالیہ حمزہ نے جاتی امرا میں ریلی کی قیادت کی، تاہم پولیس کے چھاپے سے پہلے فرار ہونے میں کامیاب رہے۔
ریحانہ ڈار، عروبہ ڈار، اور ناز بلوچ کو ایوان عدل کے باہر سے گرفتار کر لیا گیا۔ دوسری جانب، پی ٹی آئی لاہور کے صدر شیخ امتیاز محمود پورے دن منظرعام سے غائب رہے، جس پر سوشل میڈیا پر بھی کارکنان نے سوالات اٹھائے۔
ادھر انصاف لائرز فورم نے گرفتار رہنماؤں اور کارکنوں کی ضمانت کے لیے قانونی ٹیمیں تشکیل دے دی ہیں




