حکومتِ پاکستان نے فیصلہ کیا ہے کہ "پروف آف رجسٹریشن” (پی او آر) کارڈ رکھنے والے افغان مہاجرین کی وطن واپسی اور ملک بدری کا عمل آئندہ ماہ یکم ستمبر سے باضابطہ طور پر شروع کر دیا جائے گا۔ فیصلے کے تحت 13 لاکھ سے زائد افغان شہریوں کو، جن کے کارڈز کی مدت 30 جون 2025 کو ختم ہو چکی ہے، اب پاکستان میں قیام کا قانونی جواز حاصل نہیں ہو گا۔
وزارتِ داخلہ کی جانب سے 4 اگست کو تمام صوبوں، گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے اعلیٰ انتظامی و پولیس حکام کو ایک سرکاری مراسلہ جاری کیا گیا ہے جس میں پی او آر کارڈ ہولڈرز کی مرحلہ وار واپسی کے لیے حکمتِ عملی اور اقدامات کی وضاحت کی گئی ہے۔
خط کے مطابق، ایسے افغان شہری جو پی او آر کارڈ رکھتے ہیں، ان کی رضاکارانہ واپسی فوری طور پر شروع کی جائے گی، جبکہ یکم ستمبر 2025 سے ان افراد کی باقاعدہ ملک بدری کا عمل شروع ہو گا۔ اس سلسلے میں متعلقہ اداروں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ زمینی حقائق کے مطابق مکمل منصوبہ بندی کریں۔
نادرا کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ رجسٹرڈ افغان شہریوں کی ڈی رجسٹریشن کے لیے بارڈر کراسنگ پوائنٹس اور عارضی کیمپوں میں سہولتیں فراہم کرے، جب کہ ایف آئی اے کو واپسی کے لیے مخصوص سرحدی راستوں پر انتظامات میں شمولیت کا کہا گیا ہے۔
وزارتِ داخلہ نے متعلقہ وفاقی وزارتوں، بشمول سیفران، امورِ کشمیر و گلگت بلتستان کو ہدایت کی ہے کہ پی او آر کارڈ ہولڈرز کا مکمل ڈیٹا صوبائی، ڈویژنل اور ضلعی سطح پر کمیٹیوں کو فراہم کریں تاکہ ان کی واپسی کا موثر لائحہ عمل بنایا جا سکے۔ منصوبے میں عارضی کیمپوں کا قیام، سفری سہولیات اور مالی وسائل کی فراہمی جیسے اقدامات شامل ہوں گے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق، حکومتِ پاکستان نے رواں سال مارچ میں افغان حکام کو پیشگی اطلاع دے دی تھی کہ پی او آر کارڈز کی میعاد جون 2025 کے بعد مزید توسیع نہیں دی جائے گی۔
ملک میں افغان مہاجرین کی موجودہ تعداد؟
اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین (یو این ایچ سی آر) کے اعداد و شمار کے مطابق، جون 2025 تک پاکستان میں 13 لاکھ سے زائد افغان مہاجرین رجسٹرڈ تھے۔ ان میں سب سے زیادہ تعداد خیبر پختونخوا (تقریباً 7.17 لاکھ)، بلوچستان (3.26 لاکھ)، پنجاب (1.95 لاکھ)، سندھ (75 ہزار سے زائد) اور اسلام آباد (43 ہزار سے زائد) میں مقیم ہے۔
یو این ایچ سی آر کی تشویش
دوسری جانب، یو این ایچ سی آر نے اس فیصلے پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ افغان پی او آر کارڈ ہولڈرز کی جبری واپسی بین الاقوامی اصولوں، خاص طور پر "نان ریفولمنٹ” کے تقاضوں سے متصادم ہو سکتی ہے۔ اقوامِ متحدہ کے ادارے نے حالیہ دنوں میں مہاجرین، حتیٰ کہ پی او آر کارڈ رکھنے والوں کی بھی گرفتاریوں اور حراست کی اطلاعات پر تشویش ظاہر کی ہے۔




