پاکستان

ٹرمپ کا روسی صدر پیوٹن سے ملاقات کا عندیہ، یورپی رہنماؤں کو اعتماد میں لے لیا

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یورپی لیڈرز کو آگاہ کیا ہے کہ وہ آئندہ ہفتے کے دوران روسی صدر ولادیمیر پیوٹن سے براہِ راست ملاقات کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں، جب کہ یوکرینی صدر ولودیمیر زیلنسکی سے بھی ملاقات زیر غور ہے۔ اگر یہ ملاقاتیں طے پا گئیں تو یہ گزشتہ چار سال میں کسی بھی امریکی اور روسی صدر کے درمیان پہلی براہِ راست ملاقات ہو گی۔

بدھ کے روز یورپی رہنماؤں کے ساتھ ہونے والی ایک ویڈیو کال کے دوران، جس میں یوکرینی صدر زیلنسکی، برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز، فن لینڈ کے صدر الیگزینڈر اسٹب اور نیٹو کے سیکرٹری جنرل سمیت کئی اعلیٰ شخصیات شریک تھیں، ٹرمپ نے اس منصوبے کا انکشاف کیا۔ انہوں نے واضح کیا کہ پیوٹن کے ساتھ مجوزہ ملاقات میں صرف تین افراد شریک ہوں گے اور یورپی ممالک کے نمائندے اس میں شامل نہیں ہوں گے۔

صحافیوں سے بات کرتے ہوئے جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ کیا ماسکو اور کییف ان مذاکرات پر آمادہ ہو چکے ہیں، تو ان کا کہنا تھا، "بہت زیادہ امکان ہے کہ دونوں فریق تیار ہو جائیں گے۔"

روسی صدارتی ترجمان دمتری پیسکوف نے اس حوالے سے کسی بھی تبصرے سے گریز کیا، البتہ یوکرینی صدر زیلنسکی نے عندیہ دیا کہ ماسکو اب جنگ بندی پر نسبتاً سنجیدہ نظر آ رہا ہے اور مغربی دباؤ کے اثرات ظاہر ہونا شروع ہو گئے ہیں۔

امریکا اور روس کے صدور کے درمیان آخری براہِ راست ملاقات جون 2021 میں جنیوا میں ہوئی تھی، جب اس وقت کے صدر جو بائیڈن نے پیوٹن سے ون آن ون ملاقات کی تھی۔

ادھر وائٹ ہاؤس کی ترجمان کیرولین لیویٹ کے مطابق روسی صدر کی جانب سے ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی خواہش ظاہر کی گئی ہے، اور ٹرمپ کی اولین ترجیح یہی ہے کہ یوکرین میں جاری "وحشیانہ جنگ” کا خاتمہ ہو۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button