پشاور سے تعلق رکھنے والی انسپیکٹر رافیہ قصیم بیگ نے پاکستان کی تاریخ میں ایک نئی مثال قائم کی ہے۔ پاکستان اور ایشیا کی پہلی خاتون بم ڈسپوزل یونٹ افسر بن کر انہوں نے نہ صرف اپنے ملک بلکہ پوری دنیا کی خواتین کے لیے ایک نئی راہ ہموار کی ہے۔
انسپیکٹر رافیہ نے 2009 میں خیبر پختونخواہ پولیس میں لیڈی کانسٹیبل کے طور پر اپنا کیریئر شروع کیا۔ اعلیٰ تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے مختلف آپریشنز میں حصہ لیا اور اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔ انہوں نے ایم اے آئی آر، ایم ایس سی اکنامکس اور ایل ایل بی کی ڈگریاں حاصل کیں جبکہ فیڈرل اور کے پی پبلک سروس کمیشن کے امتحانات بھی کامیابی سے پاس کیے۔
انسپیکٹر رافیہ کا کہنا ہے کہ بچپن سے ہی ان کا خواب تھا کہ وہ وردی پہن کر اپنے ملک کی خدمت کریں اور اپنے والدین کا نام روشن کریں۔ 2016 میں انہوں نے بم ڈسپوزل یونٹ میں شمولیت کی درخواست دی اور کمانڈ کی مکمل حمایت حاصل کی۔ اس یونٹ میں شمولیت کے بعد ان کی کامیابیوں نے خواتین کے لیے پولیس فورس میں نئی راہیں کھول دی ہیں۔
2017 میں انہیں ایف پی ایس سی کے ذریعے کمیشنڈ آفیسر کے طور پر تعینات کیا گیا اور 2018 میں وہ اے این ایف پولیس اسٹیشن کی پہلی خاتون ایس ایچ او بنیں۔ وہ پشاور انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر اینٹی نارکوٹکس فورس یونٹ کی انچارج بھی رہ چکی ہیں اور اب اینٹی نارکوٹکس فورس اکیڈمی میں انسٹرکٹر کے طور پر خواتین کی تربیت دے رہی ہیں۔
انسپیکٹر رافیہ قصیم بیگ کا پیغام ہے:
"عزم، محنت اور لگن کے بغیر کوئی بھی مقصد حاصل نہیں کیا جا سکتا۔”
یہ کامیابی پاکستان کی خواتین کے حوصلے اور وطن سے محبت کا زندہ ثبوت ہے، جو ہر مشکل کا مقابلہ کر کے ملک کی خدمت میں پیش پیش ہیں۔




