تہران : امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو گئی۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے جارحانہ بیان کے بعد ایران نے اپنی عسکری طاقت کا مظاہرہ کرتے ہوئے امریکی بحری بیڑے کو کھلی وارننگ دے دی ہے۔ ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے اعلان کیا ہے کہ اگر امریکی بحری جہاز ایرانی سمندری حدود کے قریب بھی آئے تو انہیں تباہ کر دیا جائے گا۔
عالمی تجارت کے لیے اہم ترین راستے ‘آبنائے ہرمز’ میں ایران نے 9 کلو میٹر کے رقبے پر محیط لائیو جنگی مشقیں شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ کسی بھی ممکنہ امریکی مہم جوئی کا جواب دیا جا سکے۔ایرانی صدر کے سعودی ولی عہد سے رابطے کے بعد صورتحال میں نیا موڑ آگیا ہے۔ سعودی عرب نے ایران کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحیت کا حصہ بننے سے صاف انکار کر دیا ہے، جو کہ امریکہ کے لیے ایک بڑا سفارتی دھچکا تصور کیا جا رہا ہے۔
جہاں صدر ٹرمپ کا دعویٰ ہے کہ ان کا بحری بیڑہ ونیزویلا سے بھی بڑی طاقت رکھتا ہے اور ایران ڈیل کے لیے تیار ہے، وہیں تہران نے اپنی عسکری تیاریوں سے یہ پیغام دیا ہے کہ وہ دباؤ میں آنے کے بجائے مقابلے کے لیے تیار ہے۔




