پاکستان
Trending

چار دن کام، تین دن آرام: کام اور زندگی میں توازن کی جانب بڑھتا عالمی رجحان

اس تحقیق میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کی 141 کمپنیوں کے ملازمین پر ٹرائل کیا گیا

 

کراچی / لندن : دنیا بھر میں نئی نسل اب زندگی اور کام کے درمیان توازن کو ترجیح دے رہی ہے، اور اس سوچ کے زیرِ اثر کئی ممالک میں ہفتے میں چار دن کام کرنے کا ماڈل کامیابی سے آزمایا جا رہا ہے۔
حالیہ تحقیق کے مطابق تین دن کی چھٹی صرف آرام کا وقت نہیں بلکہ ذہنی سکون، بہتر صحت اور کام کی بہتر کارکردگی کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔

بوسٹن کالج کی جانب سے کی گئی اس تحقیق میں امریکہ، برطانیہ، کینیڈا، نیوزی لینڈ اور آئرلینڈ کی 141 کمپنیوں کے ملازمین پر ٹرائل کیا گیا، جنہیں ہفتے میں صرف چار دن کام کرنے کی اجازت دی گئی۔
نتائج حیران کن تھے: ملازمین کی صحت بہتر ہوئی، برن آؤٹ میں کمی آئی اور اداروں کی آمدن میں بھی اضافہ ہوا۔

پولیس جیسا سخت شعبہ بھی اس تجربے میں کامیاب رہا۔ امریکی ریاست کولوراڈو کے ایک پولیس ڈیپارٹمنٹ میں جب چار دن کا ورک ویک شروع کیا گیا تو استعفوں کی شرح میں 50 فیصد کمی اور اوور ٹائم اخراجات میں 80 فیصد کمی ریکارڈ کی گئی۔

تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا کہ ملازمین نے اضافی چھٹی کا وقت ذاتی دلچسپیوں، خاندان اور نیند کے لیے استعمال کیا، جس سے ان کی ذہنی صحت بہتر ہوئی اور وہ کام پر زیادہ توجہ دینے لگے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ کورونا وبا کے بعد سے لوگ روایتی طویل اوقات کے کام کے خلاف بولنے لگے ہیں، اور اب نئی نسل کام کے مقصد، لچکدار اوقات اور ذاتی زندگی کو زیادہ اہمیت دے رہی ہے۔

اگرچہ ہر شعبے میں یہ ماڈل فوری لاگو نہیں ہو سکتا، مگر یہ واضح ہے کہ کام کا مستقبل تیزی سے بدل رہا ہے  اور وہ دن دور نہیں جب تین دن کی چھٹی صرف خواب نہیں، حقیقت ہو گی۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button