لاہور: پنجاب گروپ کے چیئرمین میاں عامر محمود نے پنجاب یونیورسٹی انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن (آئی بی اے) میں "2030 کا پاکستان، چیلنجز، امکانات اور نئی راہیں” ایپ سیپ کے سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کی موجودہ سیاسی، سماجی اور انتظامی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
میاں عامر محمود نے کہا کہ پاکستان کی ترقی کے لیے عوامی شعور اور طاقت کو بنیاد بنانا وقت کی ضرورت ہے، کیونکہ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک نے عوامی طاقت کو اپنی ترقی کا مرکزی محور بنایا ہے۔ انہوں نے ماضی کے بادشاہی نظام کے برخلاف آج کے دور میں عوامی طاقت کو ملکوں کی ترقی کی بنیاد قرار دیا۔
انہوں نے پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی اور محدود انتظامی یونٹس پر شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آزادی کے وقت ملک میں چار صوبے تھے جن کی آبادی تقریبا 3 کروڑ تھی، جبکہ آج صرف پنجاب کی آبادی 13 کروڑ کے قریب ہے۔ انہوں نے بھارت، چین، انڈونیشیا، کینیڈا اور ایران کی انتظامی تقسیم میں توسیع کی مثال دی اور پاکستان میں انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔
میاں عامر محمود نے پاکستان کی عالمی سطح پر ہیومن ڈویلپمنٹ انڈیکس میں پستی اور سسٹین ایبل ڈویلپمنٹ گولز میں غیر مطمئن کن کارکردگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں 44 فیصد بچے غذائی قلت کا شکار ہیں اور 25 ملین بچے اسکولوں سے محروم ہیں، جبکہ نوجوانوں کی بڑی تعداد بے روزگار ہے۔
انہوں نے بلوچستان کی گیس کے وسائل کے باوجود وہاں کے عوام کو مناسب سہولیات نہ ملنے پر افسوس کیا اور وسائل کی منصفانہ تقسیم اور انتظامی اصلاحات کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ بڑے صوبوں کو چھوٹے انتظامی یونٹس میں تقسیم کرنے سے بہتر حکمرانی ممکن ہوگی اور عوام کو بہتر نمائندگی ملے گی۔
میاں عامر محمود نے سیاسی نظام میں لیڈرشپ کی کمی اور سیاست میں چند خاندانوں کے غلبے پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور نوجوانوں کو موقع دینے کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے انصاف کے نظام کی بہتری کو بیرونی سرمایہ کاری کے لیے ناگزیر قرار دیا۔
انہوں نے بلوچستان میں نئے صوبے بنانے کی تجویز دی جس سے علیحدگی کی تحریک ختم ہو سکتی ہے اور بھارتی پنجاب کی مثال دی۔ علاوہ ازیں، انہوں نے لوکل گورنمنٹ کے نظام کو مضبوط کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
میاں عامر محمود نے عوامی شعور بیدار کرنے اور اصلاحات کے لیے آواز اٹھانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ وہ اس مقصد کے لیے کام کر رہے ہیں۔
قابل ذکر بات یہ ہے کہ میاں عامر محمود نے گزشتہ دنوں سپیریئر یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف لاہور میں بھی ملک میں نئے صوبے بنانے کی تجویز پیش کی تھی۔




