اسلام آباد: اسلام آباد ہائیکورٹ کی فل کورٹ میٹنگ میں ججز کی آراء تقسیم ہو گئیں، جہاں اسٹیبلشمنٹ رولز اور پریکٹس اینڈ پروسیجر رولز کو بغیر تفصیلی بحث کے اکثریتی رائے سے منظور کیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ 11 ججز میں سے 6 نے رولز کی منظوری دی جبکہ 5 نے مخالفت کی۔ مخالفت کرنے والے ججز نے میٹنگ مؤخر کرنے اور رولز پر مزید مشاورت کا مطالبہ کیا مگر یہ درخواست مسترد کر دی گئی۔
جسٹس بابر ستار اور جسٹس سردار اعجاز اسحاق کے خطوط اور تحفظات کو اجلاس میں زیر غور نہیں لایا گیا، جس پر اندرونی اختلافات عیاں ہو گئے ہیں۔
میٹنگ کے دوران ہائیکورٹ کی عمارت کے نقائص سے متعلق مسئلہ حکومت کو بھجوا دیا گیا، جب کہ فیملی کورٹس کے ججز کے اختیارات پر اتفاق رائے بھی ہوا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ اس میٹنگ سے اسلام آباد ہائیکورٹ کے اندر اختلافات اور انتظامی چیلنجز کا پتہ چلتا ہے، جو عدلیہ کے امور پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔




