پاکستان

وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا  سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک فوری اور جامع بحالی پیکیج طلب

لاہور :  وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف نے صوبے کے سیلاب سے متاثرہ علاقوں کے لیے ایک فوری اور جامع بحالی پیکیج طلب کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیلاب سے متاثر ہونے والے ہر فرد، خصوصاً کاشتکاروں کو تنہا نہیں چھوڑا جائے گا، اور پنجاب حکومت ان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے۔

وزیراعلیٰ کی زیر صدارت ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں اربن یونٹ، بورڈ آف ریونیو اور دیگر متعلقہ محکموں کو ہدایت کی گئی کہ بحالی کے کاموں میں فوری پیش رفت کی جائے۔ مریم نواز نے واضح کیا کہ امدادی رقوم میں اضافہ کیا جائے تاکہ متاثرہ خاندانوں کو جلد از جلد ریلیف فراہم کیا جا سکے۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ نے سیلاب میں تباہ ہونے والے گھروں کی دوبارہ تعمیر کے لیے "اپنی چھت، اپنا گھر” کے نام سے ایک نیا پروگرام شروع کرنے کا اعلان کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ خود اس عمل کی نگرانی کریں گی اور متاثرہ خاندانوں کے گھروں کی بحالی تک چین سے نہیں بیٹھیں گی۔

ایسے خاندان جن کے گھر مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں اور جو واپس نہیں جا سکتے، ان کے لیے وزیراعلیٰ نے ہدایت دی کہ ہر ضلع میں عارضی مارکیز قائم کی جائیں، جہاں صاف پانی، کھانا، طبی سہولتیں، اور مرد و خواتین کے لیے الگ جگہیں فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعلیٰ نے سیلاب سے متاثرہ کاشتکاروں کے لیے خصوصی بحالی پروگرام تیار کرنے کا حکم دیا تاکہ وہ اپنی فصلوں اور کھیتی باڑی کو دوبارہ بحال کر سکیں۔ انہوں نے کہا:”ہمارا کسان خوشحال ہو گا تو پنجاب ترقی کرے گا۔”
بحالی پیکیج کی درست منصوبہ بندی کے لیے ڈیجیٹل سروے شروع کیا جائے گا، جس کی نگرانی ایک اعلیٰ سطحی کمیٹی کرے گی۔ وزیراعلیٰ نے اس عمل میں شفافیت کو یقینی بنانے کی ہدایت جاری کی تاکہ اصل متاثرین تک بروقت اور منصفانہ امداد پہنچائی جا سکے۔

مریم نواز نے واضح کیا کہ دریاؤں، ندی نالوں اور آبی گزرگاہوں پر قائم تجاوزات اور غیرقانونی آبادیاں فوری ختم کی جائیں گی، اور ان علاقوں کو ریڈ زون قرار دیا جائے گا تاکہ آئندہ ممکنہ خطرات سے بچا جا سکے۔

انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب کو ہر سال درپیش سیلابی خطرات سے بچاؤ کے لیے ایک جامع فلڈ ماسٹر پلان ناگزیر ہے۔ انہوں نے تمام متعلقہ اداروں کو قلیل المدتی اور طویل المدتی پالیسیوں پر فوری عملدرآمد شروع کرنے کی ہدایت دی۔

اجلاس کے اختتام پر وزیراعلیٰ نے جذباتی انداز میں کہا:”لوگوں کے گھر اجڑ گئے ہیں، ہم سکون سے کیسے بیٹھ سکتے ہیں؟ سیلاب متاثرین کو ہم تنہا نہیں چھوڑیں گے۔ ان کی توقعات میرے ساتھ جڑی ہیں، اور ان پر پورا اترنا میرا فرض ہے۔”

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button